اقوام متحدہ کے مطابق انڈمان کے سمندر میں کشتی پلٹنے کے بعد ۲۵۰؍ سے زائد روہنگیا اور بنگلہ دیشی لاپتہ ہیں،یہ کشتی ملائشیا جارہی تھی۔
EPAPER
Updated: April 15, 2026, 6:04 PM IST | Andman
اقوام متحدہ کے مطابق انڈمان کے سمندر میں کشتی پلٹنے کے بعد ۲۵۰؍ سے زائد روہنگیا اور بنگلہ دیشی لاپتہ ہیں،یہ کشتی ملائشیا جارہی تھی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجر (IOM) کے مطابق، انڈمان کے سمندر میں ایک کشتی کے الٹنے کے بعد۲۵۰؍ سے زائد روہنگیا پناہ گزین اور بنگلہ دیشی شہری لاپتہ ہیں۔ یہ کشتی ملائشیا جا رہی تھی۔اقوام متحدہ کے اداروں کے مشترکہ بیان کے مطابق، یہ کشتی بنگلہ دیش کے ضلع کاکس بازار کے علاقے ٹیکناف سے روانہ ہوئی تھی یہ علاقہ بڑی تعداد میں روہنگیا پناہ گزینوں کی آماجگاہ ہے اور ملائشیا جا رہی تھی۔اطلاعات کے مطابق، کشتی میں گنجائش سے زیادہ بھیڑ اور تیز ہواؤںکی وجہ سے طوفانی سمندر میں اس پر سے قابو ختم ہو گیا۔ بدھ تک، امدادی کارروائیوں یا جہاز پر سوار افراد کی حالت زار کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰؍ ہزار جوتے چپل، ایمسٹرڈیم میں غزہ کے بچوں کو یاد کیا گیا
اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنے بیان میں کہا،’’یہ المیہ بے دخلی کے تباہ کن اثرات اور روہنگیا کے لیے پائیدار حل کی عدم موجودگی کومنظر عام پر لاتا ہے۔‘‘اداروں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے جان بچانے والی امداد اور میزبان سماج کی مدد کے لیے یکجہتی اور مستند فنڈنگ کو برقرار رکھے۔ انہوں نے میانمار میں بے دخلی کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور پناہ گزینوں کی محفوظ، رضاکارانہ اور باوقار واپسی کے لیے حالات پیدا کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا کہ ’’اجتماعی اقدامات کے بغیر، مزید جانیں سمندر اور مہلک راستوں پر پریشان کن سفر میں ضائع ہو جائیں گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آرٹیمس دوم: وہ لمحہ یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں: خلا باز وائز مین
واضح رہے کہ روہنگیا، جو میانمار کی ریاست رخائن سے تعلق رکھنے والی ایک اقلیتی نسلی گروہ ہے، کئی دہائیوں سے منظم ظلم و ستم اور بے وطنی کا شکار ہے۔ انہیں میانمار کے شہریت قانون۱۹۸۲ء کے تحت شہریت سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ان کے خلاف بار بار فوجی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، خاص طور پر ۲۰۱۷ء میں جب ایک سفاکانہ مہم کے نتیجے میں۷؍ لاکھ سے زائد افراد بنگلہ دیش جیسے پڑوسی ممالک میں فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔تاہم محدود حقوق اور محفوظ واپسیکے بغیر، بہت سے لوگ تحفظ اور بنیادی سلامتی کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر کرتے رہتے ہیں۔