اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ ہفتے سوڈان کی ریاست نیلِ ازرق میں لڑائی کے باعث ۲۲؍ ہزار افراد بے گھر ہوگئے، ادارے کا کہنا ہے کہ ضلع گیسان میں تشدد سے بھاگنے والے شہریوں نے ریاستی دارالحکومت اد دمازین سمیت کئی علاقوں میں پناہ لی ہے۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 8:59 AM IST | Khartoum
اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ ہفتے سوڈان کی ریاست نیلِ ازرق میں لڑائی کے باعث ۲۲؍ ہزار افراد بے گھر ہوگئے، ادارے کا کہنا ہے کہ ضلع گیسان میں تشدد سے بھاگنے والے شہریوں نے ریاستی دارالحکومت اد دمازین سمیت کئی علاقوں میں پناہ لی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہِ انسانی امور (اوچا) نے منگل کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے سوڈان کی ریاست نیلِ ازرق (بلیو نائل) سے تقریباً ۲۲؍ ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں، کیونکہ ضلع گیسان میں لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ تشدد شہریوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا، ’’ریاست نیلِ ازرق میں مقامی حکام کے مطابق، گزشتہ سات دنوں میں ضلع گیسان میں بڑھتی ہوئی لڑائی کی وجہ سے ممکنہ طور پر ۲۲؍ ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔‘‘اس میں مزید کہا گیا کہ ’’کئی لوگ اسکولوں میں پناہ گزیں ہیں یا دوسرے علاقوں، بشمول ریاستی دارالحکومت اد دمازین کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یوکرینی ڈرونز کے باعث روسی فضائی حدود خطرناک: زیلنسکی کی ایئرلائنز کو وارننگ
بعد ازاں مقامی امدادی ادارے گیسان ایمرجنسی روم نے اتوار کو بتایا کہ لڑائی اور بگڑتے ہوئے سیکیورٹی حالات کے سبب تقریباً ۲۰ ؍ہزار افراد ضلع گیسان کے علاقے مدینہ ۱۲ ؍سے فرار ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ نیلِ ازرق میں گزشتہ دو دنوں میں نئی شدت آئی ہے، جب نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسیز (RSF) اور ان کے اتحادی سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ نارتھ (SPLM–N) نے ریاست کے کئی علاقوں میں حملے کیے۔ دفتر برائے رابطہ نے یہ بھی کہا کہ سنیچر کو شمالی کوردفان ریاست کے دارالحکومت ال اُبیض کے شمال اور شمال مغرب میں دیہاتوں پر حملوں میں جانی نقصان ہوا اور شہری بے گھر ہوئے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ شہری املاک اور مویشی لوٹے گئے۔بیان میں کہا گیا، ’’مغربی دارفور ریاست میں، گزشتہ جمعرات کو چاڈ کی سرحد کے قریب اڈیکونگ میں ایندھن کی مارکیٹ پر ڈرون حملے میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس حملے سے شہری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیپال کی جرأت، امریکہ، چین اور ہندوستان سے معاوضہ مانگا
بعد ازاں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہِ انسانی امورنے تنازع کی تمام فریقوں سے دوبارہ مطالبہ کیا کہ ’’وہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کریں، بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کریں، اور انسانی تنظیموں کو محفوظ اور آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دیں۔‘‘ تاہم بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) نے پیر کو بتایا کہ شمالی کوردفان کے ضلع الرہاد میں واقع گاؤں القردود ابو زید سے ایک ہی دن میں امن عامہ کے حالات بگڑنے کی وجہ سے ۴۵۰؍ افراد بے گھر ہوئے۔
واضح رہے کہ نیلِ ازرق اور دارفور کے ساتھ ۲۵؍ اکتوبر سے سوڈان کی تینوں کوردفان ریاستوں، شمالی کوردفان، مغربی کوردفان اور جنوبی کوردفان میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سوڈان اپریل ۲۰۲۳ ءسے فوج اور نیم فوجی دستوںکے درمیان جنگ کی حالت میں ہے۔جبکہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق، اس تنازع میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔