• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ساتھ اقوام متحدہ کی سرگرمی بھی جاری رہنا چاہئے: ٹرمپ

Updated: January 21, 2026, 8:02 PM IST | Washington

ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ساتھ اقوام متحدہ کی سرگرمی بھی جاری رہنا چاہئے، انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ بہت مددگار ثابت نہیں ہوئی لیکن اس کی صلاحیت بہت عظیم ہے۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے، ایسے میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا ان کا تجویز کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ عالمی ادارے کا متبادل فراہم کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوشش ہے۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ لینے کے لیے ہے، تو انہوں نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے بریفنگ میں نامہ نگاروں سے کہا، ’’اقوام متحدہ بہت مددگار ثابت نہیں ہوئی۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں اقوام متحدہ کی صلاحیت کا بہت بڑا مداح ہوں، لیکن یہ اپنی صلاحیتوں پر کبھی پوری نہیں اتری۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا، ’’میرا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کو جاری رکھنا ہوگا کیونکہ اس کی صلاحیت بہت عظیم ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی فرانس کو امن بورڈ کی دعوت، فرانس اقوام متحدہ منثور پرقائم، ٹیرف کی دھمکی

واضح رہے کہ ٹرمپ کی یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متعدد ممالک نے تجویز کردہ کونسل کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے لیے ایک مسابقتی یا متبادل ادارہ بن سکتی ہے۔ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے مدعو کیے گئے ممالک بھی اس کے ردعمل میںمنقسم نظر آئے۔کچھ نے شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ دیگر نے رکنیت کی مخالفت کی ہے۔کئی حکومتوں نے  یہ کہتے ہوئے کہ وہ اب بھی اس اقدام کا جائزہ لے رہے ہیں اپنا جواب مؤخر کرنے کا انتخاب کیا ہے،، جبکہ کچھ دیگر نے کونسل کے لیے واشنگٹن کے متخیلہ کردار کے بارے میں واضح تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: داؤس۲۰۲۶ء میں ٹرمپ کی ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کی پیش رفت، ممبران میں تذبذب اور اضطراب

دریں اثناء سفارتی ذرائع کے مطابق، مختلف ردعمل اس بات کی غیر یقینی کی عکاسی کررہے ہیں کہ آیا بورڈ آف پیس موجودہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا یا پھر اقوام متحدہ کے حقوق  کو کمزور کرے گا۔ٹرمپ نے کونسل کو امن کی پہل کو آگے بڑھانے کے ایک طریقہ کار کے طور پر فروغ دیا تھا، لیکن اس کے مینڈیٹ اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK