• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

داؤس۲۰۲۶ء میں ٹرمپ کی ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کی پیش رفت، ممبران میں تذبذب اور اضطراب

Updated: January 20, 2026, 6:04 PM IST | Davos

داؤس ۲۰۲۶ء میں ٹرمپ ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں،جبکہ ممبران تذبذب اور اضطراب کا شکار ہیں، ٹرمپ نے دستخطی تقریب کا بھی منصوبہ بنایا ، جس میں شریک ممالک سے ایک ارب ڈالر کی مبینہ شراکت بھی شامل ہے۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

صدر ڈونالڈ ٹرمپ دائوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اپنے متنازع غزہ امن بورڈ کی تشہیر کے لیے ایک دستخطی تقریب کا انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ تقریب ٹرمپ کی امن کوششوںکی پذیرائی کرے گی اور امن کوششیں میں حصہ لینے والے ممالک کے لیے ایک ارب ڈالر کی شراکت کا مطالبہ کرے گی۔ خبروں کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عالمی لیڈروںکو بھیجے گئے دعوت نامے نے ڈپلومیٹس اور منتظمین کوتذبذب کا شکار کردیا  ہے۔
بلومبرگ رپورٹ کے مطابق، حکام کے درمیان اضطراب پھیل گیاہے کیونکہ ٹرمپ اپنے حال ہی میں اعلان کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو پیش کرنے کے لیے آخری لمحات میں ایک تقریب کے انعقاد پر زور دے رہے ہیں، یہ بورڈ وہائٹ ہاؤس نے صرف چند دن قبل ہی متعارف کرایا تھا۔دراصل ٹرمپ چاہتے ہیں کہ دنیا کے معتبر ترین اقتصادی اجلاس کے موقع پر اس بورڈ کو رسمی طور پر لانچ کیا جائے، تاکہ جب عالمی لیڈرسوئٹزر لینڈ پہنچیں تو یہ بورڈ توجہ کا مرکز بن جائے۔واضح رہے کہ امن بورڈ کو غزہ کی جنگ کے بعد کی تعمیر نو کی رہنمائی کے لیے ایک میکانزم کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور گذشتہ نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کی توثیق کی تھی۔ تاہم، اس کے دستور میں غزہ کا صریحاً ذکر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی کو ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت؛ پوتن اور شہباز شریف بھی مدعو

دریں اثناء جیسے جیسے مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، بورڈ کے مبینہ ایک ارب ڈالر کےشراکتی فنڈ اور اس رقم کے اصل استعمال کی جانب توجہ  مرکوز ہو گئی ہے۔گزشتہ ہفتے کے آخر میں،ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستان سمیت عالمی لیڈروں کو ایک ’’منفرد قسم‘‘ کے بورڈ میں شمولیتکا دعوت نامہ بھیجا۔جس میں  روسی صدر ولادیمیر پوتن اور بیلاروسی لیڈر الیگزینڈر لوکاشینکو شامل ہیں، جبکہ دونوں طویل عرصے سے مغربی فورم سے الگ تھلگ ہیں۔تاہم انہوں نے اسے قبول کرلیا ہے۔جبکہ بیشتر یورپی حکام شراکتی فنڈ کی بھاری قیمت اور فنڈز کے انتظام میں صراحت کی کمی سے تذبذب میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ تنازع ٹیرف اور نیٹو بحران میں تبدیل؛ ای یو ۱۰۸ ارب ڈالر ٹیرف کےجوابی اقدام پر غور کررہا ہے

یاد رہے کہ داؤس میں، ہزاروں مندوبین چار روزہ مذاکرہ کے لیے جمع ہو رہے ہیں تاکہ دنیا کی حالت بہتر بنانے پر بحث کریں۔لیکن دنیا کے اہم ترین اقتصادی اجلاس کے درمیان، ٹرمپ کی خلل اندازی اور ازخود تشہیر کو اس میں شامل کرنے کے مبینہ اقدام نے اضطراب پیدا کردیا ہے۔ مزید برآں بلومبرگ رپورٹس کے مطابق، یورپی حکومتیں اب بورڈ کی شرائط پر نظرثانی کر  رہی ہیں۔ ایک نامعلوم امریکی اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایک مرکزی تشویش یہ ہے کہ مستقل رکنیت کی فیس کہاں جائے گی، اور کن ضمانتوں کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ رقم غزہ کی تعمیر نو پر خرچ ہو۔ٹرمپ کا بورڈ کی صدارت سنبھالنے کا فیصلہ بے چینی کو اور گہرا کر رہا ہے۔ خبروں کے مطابق، یورپی اہلکاروں کو تشویش ہے کہ اس سے فیصلہ سازی کی طاقت ایسے لیڈرکے ہاتھوں میں چلی جائے گی جو نہ صرف کھلم کھلا گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دے چکا ہے، بلکہ جس نے نوبل امن انعام سے محرومی کے بعد اب یہ اعتراف بھی کر لیا ہے کہ وہ اب خالصتاً امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK