• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوڈان میں خوراک مارچ کے اختتام تک ختم ہونے کا خدشہ: اقوامِ متحدہ کی وارننگ

Updated: January 18, 2026, 3:02 PM IST | Khartoum

اقوامِ متحدہ کے غذائی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مالی امداد نہ ملی تو سوڈان میں مارچ کے اختتام تک خوراک کے ذخائر ختم ہو سکتے ہیں۔ راشن پہلے ہی کم ترین سطح پر آ چکا ہے، جس سے لاکھوں بچے زندگی اور موت کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کے غذائی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے جمعرات ۱۵؍ جنوری کو شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر مالی وسائل فراہم نہ کیے گئے تو سوڈان میں خوراک کے ذخائر مارچ کے اختتام تک مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق راشن پہلے ہی انتہائی کم سطح تک محدود کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں بچے اور خاندان ایسی حالت میں دھکیل دیے گئے ہیں جسے اقوامِ متحدہ نے ’’بقا کی آخری سرحد‘‘ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سوڈان اس وقت دنیا کے بدترین غذائی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں بھوک، بدامنی اور تشدد نے انسانی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ غذائی امداد میں مسلسل کمی کے باعث لاکھوں بچے غذائی قلت، کمزوری اور بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ بہت سے خاندانوں کے پاس روزانہ ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھئے: یو این کا انتباہ؛ ۲۰۲۶ء میں مغربی و وسطی افریقہ میں ساڑھے ۵ کروڑ افراد شدید بھوک کا سامنا کرسکتے ہیں

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق جاری جنگ اور مالی قلت نے امدادی نظام کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ اگر فوری فنڈنگ نہ ملی تو امدادی کارروائیاں محدود یا معطل کرنا پڑ سکتی ہیں، جس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تاخیر کا مطلب براہِ راست انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا۔ سوڈان میں یہ بحران گزشتہ تقریباً تین برس سے جاری خونریز تنازع کا نتیجہ ہے، جو سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسیز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری ہے۔ اس لڑائی میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً ایک کروڑ ۱۰؍ لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانیوں میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: کے ایف سی کی ۲۴؍ شاخوں میں صرف حلال چکن پیش کیا جائے گا

طویل جنگ نے نہ صرف معیشت کو تباہ کر دیا ہے بلکہ زرعی پیداوار، خوراک کی ترسیل اور بنیادی خدمات کا نظام بھی منہدم ہو چکا ہے۔ بار بار کی لڑائی اور عدم استحکام کے باعث امن مذاکرات بھی تعطل کا شکار رہے ہیں، جس سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق سوڈان میں غذائی بحران محض ایک انسانی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک امتحان ہے۔ ادارے نے زور دیا کہ اگر فوری، منظم اور بڑے پیمانے پر امداد فراہم نہ کی گئی تو آنے والے مہینوں میں بھوک سے ہونے والی اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر بچوں میں، جو اس بحران کا سب سے کمزور اور متاثرہ طبقہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK