ڈبلیو ایف پی نے زور دیا کہ یہ بحران موسمی حالات کی وجہ سے نہیں، بلکہ تشدد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی فنڈنگ میں شدید کٹوتیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 2:04 PM IST | Dakar
ڈبلیو ایف پی نے زور دیا کہ یہ بحران موسمی حالات کی وجہ سے نہیں، بلکہ تشدد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی فنڈنگ میں شدید کٹوتیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی ایجنسی، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے جمعہ کے دن افریقہ کے علاقائی غذائی تحفظ کے تازہ ترین تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جون اور اگست ۲۰۲۶ء کے درمیانی خشک سالی کے موسم کے دوران مغربی اور وسطی افریقہ میں تقریباً ۵ کروڑ ۵۰ لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈبلیو ایف پی میں فوڈ سیکوریٹی اور نیوٹریشن اینالیسس کے ڈائریکٹر جین مارٹن باؤر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو خطے کے غذائی تحفظ کے پیمانے پر بحرانی، ہنگامی یا تباہ کن حالات کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً ۳۰ لاکھ افراد کو ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ۲۰۲۰ء میں ریکارڈ کی گئی سطح سے دوگنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایسی جنگ بندی بے معنی ہے جس میں بچوں کی ہلاکتیں جاری ہیں: یونیسف
باؤر نے مزید کہا کہ ایک دہائی میں پہلی بار شمال مشرقی نائیجیریا کے کچھ حصوں، خاص طور پر ریاست بورنو (Borno) میں آبادی کا ایک بڑا حصہ تباہ کن حد تک غذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔ یہ لوگ قحط سے صرف ایک قدم دور ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق، بورنو کے مخصوص علاقوں میں ۱۵ ہزار لوگ غذائی قلت سے متاثر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بورنو میں شرحِ اموات معمول سے ’’کہیں زیادہ‘‘ ہے۔ وہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔‘‘
باؤر نے زور دیا کہ یہ بحران موسمی حالات کی وجہ سے نہیں، بلکہ تشدد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی فنڈنگ میں شدید کٹوتیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈبلیو ایف پی پہلے ہی نائیجیریا میں تقریباً ۳ لاکھ بچوں کی امداد روکنے پر مجبور ہوچکا ہے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے کیمرون میں بھی ۵ لاکھ افراد کی امداد میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شمالی افریقہ اور ساحل خطہ غیر قانونی ہجرت کا نیا عالمی مرکز بن گیا
باؤر نے مزید کہا کہ ۲۰۲۶ء کے دوران خطے بھر میں تقریباً ایک کروڑ ۳۰ لاکھ بچے خطرے میں ہیں، جس سے غذائیت کے پروگراموں کو ترجیح دینے کی ضرورت نمایاں ہوتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کا تخمینہ ہے کہ اسے ضروری امداد برقرار رکھنے اور خوراک کے استعمال و بچوں کی غذائیت کے اشاریوں کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے اگلے ۶ ماہ کے دوران ۴۵۳ ملین ڈالر درکار ہوگے۔