اقوامِ متحدہ نے بتایا کہ طبی مراکز، محفوظ مقامات اور کلینکس کی تباہی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور سیلاب جیسی آفات نے ”نفسیاتی سماجی مدد اور طبی دیکھ بھال تک خواتین کی رسائی کو شدید محدود کر دیا ہے۔“
EPAPER
Updated: January 24, 2026, 11:14 AM IST | Gaza
اقوامِ متحدہ نے بتایا کہ طبی مراکز، محفوظ مقامات اور کلینکس کی تباہی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور سیلاب جیسی آفات نے ”نفسیاتی سماجی مدد اور طبی دیکھ بھال تک خواتین کی رسائی کو شدید محدود کر دیا ہے۔“
اقوامِ متحدہ نے غزہ میں نافذ جنگ بندی کے باوجود محصور فلسطینی علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کی صحت اور تحفظ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں کے مطابق، غزہ میں ۲ لاکھ ۳۰ ہزار سے زائد خواتین اور لڑکیاں، جن میں تقریباً ۱۵ ہزار حاملہ خواتین شامل ہیں، فوجی کارروائیوں کے اثرات اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے تولیدی صحت کی ضروری خدمات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طبی مراکز، محفوظ مقامات اور کلینکس کی تباہی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور سیلاب جیسی آفات نے ”نفسیاتی سماجی مدد اور طبی دیکھ بھال تک خواتین کی رسائی کو شدید محدود کر دیا ہے۔“ ادارے نے غزہ کے افراتفری اور کمزور ماحول میں ”خواتین پر مبنی تشدد، بچوں کی شادی اور خواتین و لڑکیوں کے استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرے“ کے بارے میں بھی خبردار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بورڈ آف پیس کے بعد امریکہ کا ’نیوغزہ‘ منصوبہ پیش، ماہرین کا رد عمل
محدود انسانی ہمدردی کی رسائی اور مسلسل مصائب
اقوامِ متحدہ کے امدادی شراکت دار اتوار سے اب تک ہزاروں خاندانوں تک خیمے، کمبل، گرم کپڑے اور دیگر بنیادی اشیاء پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم صلاحیت اور فنڈنگ کی کمی، امداد کی فراہمی کو بری طرح محدود کر رہی ہے۔ دوجارک نے نوٹ کیا کہ انسانی امداد فی الحال غزہ میں نقل مکانی کے ۹۷۰ مقامات میں سے صرف ۴۰ فیصد مقامات تک پہنچ پائی ہے۔ اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے امداد میں کمی کے باعث فلسطینیوں کے مصائب میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں میں ۷۱ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۰ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ پٹی کا تقریباً ۹۰ فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ :شدید سردی اوراسرائیل کےمسلسل حملوں سےحالات بدتر
جنگ بندی کے بعد بھی فلسطینیوں کی مشکلات برقرار
غزہ میں ۱۰ اکتوبر سے نافذ العمل جنگ بندی کو ۳ ماہ مکمل ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک علاقے میں انسانی بحران برقرار ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں جن میں فلسطینیوں کے شہید اور شدید زخمی ہونے کے واقعات پیش آرہے ہیں اور خوراک، پناہ گاہ کے سامان اور طبی سامان کے غزہ میں داخلے پر سخت اسرائیلی پابندیاں برقرار ہیں۔ اس صورتحال میں فلسطینی خواتین اور بچے انسانی المیے کا غیر متناسب بوجھ اٹھا رہے ہیں اور ان کی فوری ضروریات دستیاب امداد سے کہیں زیادہ ہیں۔