اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے ایک بیان میں کہا کہ اگر مغربی ایشیا کا بحران ۴۰؍ دن سے زیادہ رہا تو خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، اس سے قبل گزشتہ مسلسل دو مہینوں سے قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: April 04, 2026, 10:07 PM IST | Hague
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے ایک بیان میں کہا کہ اگر مغربی ایشیا کا بحران ۴۰؍ دن سے زیادہ رہا تو خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، اس سے قبل گزشتہ مسلسل دو مہینوں سے قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) نے جمعہ کو کہا کہ مارچ میں عالمی خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے مہینے اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ مغربی ایشیا میں تنازعات کی شدت سے منسلک توانائی کی بلند قیمتیں ہیں۔ایف اے او فوڈ پرائس انڈیکس، جو عالمی سطح پر تجارت ہونے والی خوراک کی اشیاء کی بین الاقوامی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی نگرانی کرتا ہے، مارچ میں اوسطاً۱۲۸؍ اعشاریہ ۵؍ پوائنٹس پر رہا، جو فروری کے مقابلے میں ۲؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد اور گزشتہ سال مارچ کے مقابلے میںایک فیصد زیادہ ہے۔ایف اے او کے چیف اکانومسٹ ماکسیمو ٹوریرو نے کہا، ’’تنازع شروع ہونے کے بعد سے قیمتوں میں اضافہ معمولی رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ تیل کی بلند قیمتیں ہیں، اور دنیا بھر میں اناج کی وافر سپلائی نے اس اضافے کو کم کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی: دلہا دلہن نے مہمانوں سے تحفوں کے بجائے یتیم بچے ساتھ لانے کی گزارش کی
ہے۔‘‘ٹوریرو نے مزید کہا، "لیکن اگر یہ تنازع۴۰؍ دن سے زیادہ رہتا ہے اور موجودہ کم شرح منافعکے ساتھ لاگت بلندرہتی ہیں، تو کسانوں کے پاس انتخاب ہوگا: کم خرچ کے ساتھ کھیتی باڑی کریں، کم رقبہ لگائیں، یا کم فرٹیلائزر والی فصلیں اگائیں۔ یہ انتخاب مستقبل کی پیداوار کو متاثر کرے گا اور اس سال کے باقی حصے اور آئندہ پورے سال کے لیے ہماری خوراک کی فراہمی اور اشیاء کی قیمتوں کو تشکیل دے گا۔‘‘
ایف اے او سیریل پرائس انڈیکس پچھلے مہینے کے مقابلے میںایک اعشاریہ ۵؍ فیصد بڑھا، جس کی بنیادی وجہ عالمی گندم کی بلند قیمتیں تھیں۔ گندم کی قیمتوں میں۴؍اعشاریہ ۳؍ فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں خشک سالی کی وجہ سے فصلوں کی متوقع پیداوار میں کمی اور آسٹریلیا میں فرٹیلائزر کی زیادہ لاگت کی وجہ سے کم بوائی تھیں۔
مزید برآں عالمی مکئی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا۔ایف اے او آل رائس پرائس انڈیکس مارچ میں ۳؍فیصد گر گیا، جس کی وجہ فصل کی کٹائی کا وقت، کمزور درآمدی طلب، اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں کرنسیوں کی قدر میں کمی تھی۔ایف اے او ویجیٹیبل آئل پرائس انڈیکس فروری کے مقابلے میں ۵؍اعشاریہ ایک فیصد بڑھ کر گزشتہ سال کے مقابلے میں۱۳؍اعشاریہ ۲؍ فیصد زیادہ ہو گیا۔ پام، سویا، سورج مکھی اور ریپ سیڈ آئل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے، جس نے بائیو فیول کی مانگ کی توقعات پیدا کی۔بعد ازاں ایف اے او میٹ پرائس انڈیکس گزشتہ مہینے کے مقابلے میںایک فیصد بڑھا، جس کی وجہ یورپی یونین میں موسمی مانگ میں اضافے سے پہلے سور کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ، اور عالمی سطح پر گائے کے گوشت کی بلند قیمتیں تھیں، خاص طور پر برازیل میں جہاں مویشیوں کی کم دستیابی کی وجہ سے برآمدی سپلائی محدود تھی۔تاہم بھیڑ اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی آئی، جس کی جزوی وجہ مشرقِ قریب کی منڈیوں تک رسائی کو محدود کرنے والی رکاوٹیں تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عوامی احتجاج کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں ۸۰؍ روپے کی کمی، جزوی راحت
ایف اے او ڈیری پرائس انڈیکس میںایک اعشاریہ ۲؍ فیصد اور شوگر پرائس انڈیکس میں مارچ میں ۷؍ اعشاریہ ۲؍فیصد اضافہ ہوا۔برازیل، جو چینی کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، بین الاقوامی خام تیل کی بلند قیمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ گنّا ایتھنول کی پیداوار میں استعمال کرے گا، اس بڑھتی ہوئی توقع نے موجودہ موسم کے لیے عام طور پر سازگار عالمی سپلائی کے تخمینے کو زیر کر دیا، جسے ہندوستان اور تھائی لینڈ میں اچھی فصل کی پیشرفت نے بھی سہارا دیا۔چونکہ دنیا کی زیادہ تر گندم پہلے ہی بو ئی جا چکی ہے، ایف اے او نے عالمی سطح پر۸۲۰؍ ملین ٹن فصل کی پیش گوئی کی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میںایک اعشاریہ ۷؍ فیصد کم ہے۔