Updated: May 14, 2026, 2:59 PM IST
| Geneva
یونائیٹڈ نیشنز انوائرنمنٹ پروگرام (یو این ای پی) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ریت کی مانگ پائیدار سپلائی سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے، جس سے ماحولیاتی اور معاشی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق ریت پانی کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قدرتی وسیلہ بن چکی ہے، جس کا سالانہ استعمال تقریباً ۵۰؍ بلین ٹن تک پہنچ گیا ہے۔
یونائیٹڈ نیشنز انوائرنمنٹ پروگرام (یو این ای پی) نے ایک نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں ریت کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ پائیدار سپلائی کی سطح سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے عالمی سطح پر سنگین ماحولیاتی اور معاشی خدشات جنم لے رہے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، ریت اب پانی کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ نکالا جانے والا قدرتی وسیلہ بن چکی ہے۔ ہر سال تقریباً ۵۰؍ بلین ٹن ریت تعمیرات، انفراسٹرکچر، شیشہ سازی، الیکٹرانکس، سڑکوں، کنکریٹ اور زمین کی بحالی جیسے منصوبوں میں استعمال کی جا رہی ہے۔ یو این ای پی نے خبردار کیا کہ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، بڑے انفراسٹرکچر منصوبے اور ترقی پذیر ممالک میں تعمیراتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ نے قدرتی ریت کے ذخائر پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر دریا کے کنارے، ساحلی علاقے اور سمندری ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : حیدرآباد کے اسپتال کو ریڑھ کی سرجری سے متاثرہ کو۵۰؍لاکھ روپئے معاوضے کا حکم
رپورٹ کے مطابق غیر منظم اور ضرورت سے زیادہ ریت نکالنے کے باعث کٹاؤ، آبی آلودگی، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور سیلاب کے خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض خطوں میں دریا کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی اور ساحلی پٹیوں کے سکڑنے جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریت کو اکثر ایک ’’لامحدود وسیلہ‘‘ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی قدرتی تشکیل کا عمل انتہائی سست ہے۔ یو این ای پی نے زور دیا کہ موجودہ رفتار سے ریت نکالنے کا سلسلہ جاری رہا تو کئی حساس علاقوں میں شدید ماحولیاتی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ مستقبل میں تعمیراتی مواد کی طلب مزید بڑھنے کی توقع ہے، خاص طور پر ایشیا اور افریقہ کے ان ممالک میں جہاں شہری توسیع تیزی سے جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر اور رہائشی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت ریت کے ذخائر پر اضافی دباؤ ڈالے گی۔
یہ بھی پڑھئے : ارجنٹائنا: یونیورسٹی کی امداد میں تخفیف کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج
یو این ای پی نے حکومتوں اور صنعتوں پر زور دیا کہ وہ ریت کے استعمال کو محض ایک عام تجارتی شے کے بجائے ایک اسٹریٹجک وسیلے کے طور پر دیکھیں، جس کے لیے محتاط منصوبہ بندی اور انتظام ضروری ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ ریت نکالنے کے عمل کو سخت قوانین کے ذریعے منظم کیا جائے، نگرانی کے نظام بہتر بنائے جائیں اور تعمیراتی مواد کی ری سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے علاوہ قدرتی ریت کے متبادل مواد کو فروغ دینے کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی تعاون کے بغیر اس بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اگر دنیا بھر میں ریت کے استعمال اور نکالنے کے طریقہ کار میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں وسائل کے تنازعات، ماحولیاتی تباہی اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریت جدید معیشت کا ایک بنیادی جزو بن چکی ہے کیونکہ کنکریٹ، شیشہ، سڑکیں، پل اور متعدد صنعتی مصنوعات اس پر انحصار کرتی ہیں۔ تاہم اس کے بے تحاشا استعمال نے ماحولیاتی توازن کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ یو این ای پی کے مطابق دنیا کو اب پائیدار تعمیراتی ماڈلز، متبادل مواد اور ذمہ دارانہ نکالنے کی پالیسیوں کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ آنے والی دہائیوں میں ریت کے بحران کو قابو میں رکھا جا سکے۔