Inquilab Logo Happiest Places to Work

حیدرآباد کے اسپتال کو ریڑھ کی سرجری سے متاثرہ کو۵۰؍لاکھ روپئے معاوضے کا حکم

Updated: May 13, 2026, 9:01 PM IST | Hyderabad

کنزیومر باڈی نے حیدرآباد کے اسپتال کو ریڑھ کی سرجری سے متاثرہ کو ۵۰؍ روپئے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، متاثرہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے کمر کے نچلے حصے کے درد میں مبتلا تھی، اور انہیں فوری سرجری کا مشورہ دیا گیا تھا، لیکن سرجری کے بعد وہ چلنے کے قابل نہ رہی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

حیدرآباد کے ایک اسپتال اور اس کے ریڑھ کی ہڈی کے سرجن کو طبی غفلت اور ملازمت میں لاپرواہی  کا مجرم ٹھہراتے ہوئے، ڈسٹرکٹ کنزیومر ڈسپوٹس ریڈریسل کمیشن حیدرآباد نے حکم دیا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر تری پورہ کی ایک خاتون کو۵۰؍ لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں، جس کا دعویٰ تھا کہ ریڑھ کی ہڈی کی غیر ضروری سرجری نے اسےاپاہج کردیا اور زندگی بھر دوسروں پر مالی طور پر منحصر بنا دیا۔بینچ نے درخواست گزار جھمناتھ کی شکایت پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو گریڈون اسپونڈائلولیتھیسز ہونے کے باوجود غیر ضروری ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں ملنے والی طبی رائے کے مطابق، اس حالت کا بغیر سرجری کے علاج ممکن تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ملائم سنگھ یادو کے چھوٹے بیٹے پرتیک یادو کا انتقال

بعد ازاں کمیشن نے کہا کہ اسپتال اور سرجن کی غفلت اور سروس میں لا پرواہی کی وجہ سے مدعی زندگی بھر کے لیے بسترکے حوالے ہو گئی اور جسمانی اور مالی طور پر دوسروں پر منحصر ہو گئی۔مدعی کے مطابق، وہ کئی مہینوں سے کمر کے درد میں مبتلا تھی۔ واضح رہے کہ فروری۲۰۱۹ء میں ایم آر آئی اسکین کروایا گیا جس میں گریڈ ون اسپونڈائلولیتھیسز کی تشخیص ہوئی۔ مدعی نے بتایا کہ ڈاکٹر وینکٹ رام کرشنا نے اگرتلہ میں انہیں فوری سرجری کا مشورہ دیا اور کہا کہ سرجری ہی علاج کا واحد راستہ ہے۔ساتھ ہی انہیں یہ بھی کہا گیا کہ اگر سرجری نہ کی گئی تو وہ مفلوج ہو سکتی ہیں۔جس کے بعد خاتون اپنے خاندان کے ساتھ حیدرآباد آئیں اور۱۶؍ مئی۲۰۱۹ء کو یشودا اسپتال میں داخل ہوئیں۔ اگلے دن سرجری کی گئی۔ لیکن سرجری کے بعد وہ ٹھیک سے چل یا کھڑی نہیں ہو سکتی تھیں اور انہیں اپنی واپسی کی فلائٹ منسوخ کرنی پڑی۔ وہ وہیل چیئر پر اگروتلہ واپس لوٹیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناسک :۲۵؍بوری پیازبیچنے پربھی غریب کسان کومنافع نہیں ملا

اور انصاف کیلئے کنزیومر باڈی سے رجوع کیا۔ جسکے بعد  سری وکانتی نرسمہا راؤ (صدر) کے ساتھ ساتھ پی وی ٹی آر جواہر بابو اور ڈی سری دیوی (دونوں ارکان) پر مشتمل بنچ نےیشودا گروپ آف ہاسپٹلس، ملک پیٹھ اور ریڑھ کی ہڈی کے سرجن ڈاکٹر وینکٹ رام کرشن ٹی کے خلاف سے دائر کی گئی صارف کی شکایت کی سماعتکی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ شکایت کنندہ کی مبینہ طور پرغیر ضروری سرجری  گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہ زندگی بھر کیلئے مفلوج ہوگئیں۔بعد ازاں صارفین کے ادارے نے اسپتال اور سرجن کو مشترکہ طور پر۵۰؍ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس میں جسمانی تکلیف، ذہنی اذیت اور مالی نقصان شامل ہے۔ نیز۲۰؍ ہزار روپے عدالتی اخراجات دیے جائیں گے۔اس کے علاوہ کمیشن نے حکم دیا کہ۴۵؍ دنوں میں تعمیل کی جائے، ورنہ معاوضے کی رقم پر۹؍ فیصد سالانہ سود لاگو ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK