امریکہ نے پہلی بار تسلیم کیا کہ اس نے خلا میں ہتھیار تعینات کیے ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن نے عہد کیا کہ نہ صرف ہوا میں بلکہ خلا میں بھی اپنا غلبہ برقرار رکھیں گے۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 9:06 PM IST | Washington
امریکہ نے پہلی بار تسلیم کیا کہ اس نے خلا میں ہتھیار تعینات کیے ہیں، ساتھ ہی واشنگٹن نے عہد کیا کہ نہ صرف ہوا میں بلکہ خلا میں بھی اپنا غلبہ برقرار رکھیں گے۔
امریکہ نے خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا اعتراف کیا ہے، جس کی طویل عرصے سے توقع کی جا رہی تھی۔اسپیس فورس کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے پاس ’’مدار میں خلائی کنٹرول ہتھیار‘‘موجود ہیں جو ملک اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔واضح رہے کہ یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے خلا میں چین اور روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا ہے۔ جبکہ چین فوجی تجدیدکی حکمت عملی کے حصے کے طور پر خلائی اور کاؤنٹر اسپیس صلاحیتیں تیار اور چلاتا ہے، امریکی اسپیس فورس نے تبصرہ کیا کہ ،’’ روس خلا کو جنگی میدان کے طور پر دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خلائی برتری مستقبل کے تنازعات میں فیصلہ کن عنصر ہوگی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کے جوہری سربراہ IAEA کانفرنس سے باہر، امریکہ اور آسٹریا پر سنگین الزامات
علاوہ ازیں امریکی اسپیس فورس کے چیف آف آپریشنز جنرل چانس سالٹزمین نے جولائی میں ، اسے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین تیزی سے خلائی ہتھیاروں سمیت اہداف کو تلاش کرنے اور تباہ کرنے کی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔اس کے علاوہ فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک نے پیر کو ایئر، اسپیس، سائبر کانفرنس میں کہا، ’’آج، ہم اس بات کو یقینی بناتے رہتے ہیں کہ ہم جہاں بھی موجود ہوں، بدلتے ہوئے خطرات کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ امریکہ کا پہلی بار اپنے خلائی ہتھیاروں کو تسلیم کرنا قصداً تھا۔ مسٹر مینک نے کہا، ’’یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم نہ صرف ہوا میں بلکہ خلا میں بھی اپنا غلبہ برقرار رکھیں۔ لہذا، ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے پڑے کہ جب ہمیں خطرہ لاحق ہو تو ہم اس کا مقابلہ کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے پاس اب مدار میں خلائی کنٹرول ہتھیار موجود ہیں، جو مخالفین کے خلاف مشترکہ فورس کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سپرایل نینو نے ۱۶؍ فٹ وہیل شارک کو کیلیفورنیا کے قریب پہنچا دیا
مزید برآں سیکرٹری نے خاص طور پر دو ہتھیاروں کے نظاموں پر روشنی ڈالی جو امریکہ نے خلا میں رکھے ہیں،’’ اسپیس بیسڈ انٹرسیپٹر پروگرام اور اسپیس بیسڈ ایئر موونگ ٹارگٹ انڈیکیشن کانسٹیلیشن۔‘‘ پہلا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گولڈن ڈوم میزائل دفاعی پروگرام کا حصہ ہے۔مسٹر مینک نے کہا کہ،’’ یہ ابتدائی معاہدے سے پرواز کے لیے تیار ہارڈ ویئر تک پہنچ گیا ہے،‘‘تاہم انہوں نے نظام کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم اس بارے میں بات نہیں کرنے جا رہے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، چاہے ہم نے تجربہ کیا ہے، نہیں کیا، یا کچھ اور۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ خلائی ماحول فوجی اور معاشی سلامتی کے لیے اہم ہے، اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ وہاں آزادانہ طور پر کام کر سکے۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ زمین کے مدار میں سیٹلائٹس اور ان کے ملبے کا تیزی سےاضافہ ہورہا ہے اور خلا کو ہتھیار بنانے سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔جبکہ اسپیس ایکس اکیلے تقریباً۱۱؍ ہزار اسٹار لنک سیٹلائٹس چلاتا ہے اور آنے والے سالوں میں مزید لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔