امریکہ کی ۲۳؍ ریاستوں میں بالوں کے ذریعے خون میں داخل ہونے والے فنگس انفیکشن کا خوف پھیل رہا ہے، اس انفیکشن سے ہونے والی اموات کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، لیکن یہ بنیادی بیماریوں میں مبتلا شخص کی موت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 8:05 PM IST | Washington
امریکہ کی ۲۳؍ ریاستوں میں بالوں کے ذریعے خون میں داخل ہونے والے فنگس انفیکشن کا خوف پھیل رہا ہے، اس انفیکشن سے ہونے والی اموات کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، لیکن یہ بنیادی بیماریوں میں مبتلا شخص کی موت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کی۲۳؍ ریاستوں میں ایک مہلک فنگل انفیکشن کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ اس کے سبب ہونے والی اموات کا تعین مشکل ہے کیونکہ یہ بنیادی بیماریوں میں مبتلا شخص کی موت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ بالوں میں چھپتا ہے، جہاں سے یہ خون کے دورانمیں داخل ہوتا ہے۔امریکہ میں سائنسدانوں نے شناخت کی ہے کہ ایک مہلک فنگس جو ہر سال ملک میں تقریباً۳۰۰۰؍ افراد کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے، بالوں کے خلیات(Hair Follicles) کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے اور جلد کو تبدیل کر دیتی ہے، جس سے یہ انفیکشنز کا زیادہ شکار ہو جاتی ہے۔ بعد ازاں محققین نے اپنے مطالعے میں لکھا کہ Candida auris کے نام سے جانا جانے والا یہ فنگس خون کے دھارے میں داخل ہو کر پورے جسم میں سفر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ کے اسکول میں فائرنگ، ایک استاد ہلاک، چار افراد زخمی
سائنسدانوں نے اسے ایک سپربگ (Superbug) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال امریکہ کی ۲۳؍ ریاستوں میں تقریباً۳۰۰۰؍ معاملات درج ہوئے ہیں، جن میں سے۷۰۰؍ سے زیادہ ٹیکساس میں ہیں۔سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) نے سی آریس کو ’’فوری اینٹی مائکروبیل مزاحمتی خطرہ‘‘ قرار دیا ہے کیونکہ اس فنگس کی کچھ اقسام زیادہ تر اینٹی فنگل ادویات کے خلاف مزاحم ہیں۔ جبکہ ہیلتھ ایجنسی کے مطابق،سی آریس کے انفیکشن میں مبتلا۶۰؍ فیصد تک افراد کی موت ہو چکی ہے، حالانکہ زیادہ تر معاملات میں متاثرہ افراد پہلے ہی دیگر بنیادی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
مزید برآں سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق، اس فنگس نے ہر سال امریکہ میں تقریباً ۳۰۰۰؍ اموات میں کردار ادا کیا ہے۔یہ فنگس زیادہ تراسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ متاثرہ سطح پر ہفتوں تک زندہ رہ سکتا ہے، جس سے اس کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ زیادہ تر افراد جن کی جلد پر یہ فنگس موجود ہوتا ہے، ان میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ تاہم، وہ اسے کمزور مدافعتی نظام والے افراد تک منتقل کر سکتے ہیں، جو ان کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ کلیولینڈ کلینک کے مطابق، علامات میں بخار، سردی لگنا، تھکاوٹ، کم بلڈ پریشر اور دل کی تیز رفتاری شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: غیر قانونی سرحدی دخل اندازی رک گئی ہے؛ ملک بدریاں جاری رکھنے کا عزم
محققین نے یہ سمجھنے کے لیے کام کیا کہسی آریس( کینڈیڈا آریس) کوئی علامت ظاہر کیے بغیر مہینوں تک جلد پر کس طرح فعال رہ سکتی ہے، جبکہ’’ سی البیکانس ‘‘مدافعتی نظام تیزی سے ختم کر دیتا ہے۔ محققین نے چوہوں کو دونوں فنگس سے متاثر کیا، اور دیکھا کہ’’ سی البیکانس ‘‘تیزی سے غائب ہو گئی، لیکن سی آریس موجود رہی۔ اس نے ایسا بالوں کے کلیوں میں چھپ کر کیا۔ دونوں صورتوں میں مدافعتی ردعمل بھی مختلف تھے۔ ’’ سی البیکانس ‘‘کی صورت میں،آئی ایل ۱۷؍ ردعمل فعال ہوا، جس نے جلد کی سطح کی مرمت میں مدد کی اور انفیکشن کو ختم کرنے کیلئے حالات پیدا کیے۔ لیکن سی آریس کی صورت میں، انٹرفیرون گاما (Interferon Gamma) فعال ہوا، جو عام طور پر وائرس سے لڑنے کے لیے استعمال ہونے والا مدافعتی سگنل ہے۔جبکہ فنگس نے اپنی بیرونی دیوار کی ساخت کو تبدیل کرکےیہ ممکن بنایا۔
دریں اثناءیو سی ایس ایف میں مائکروبیالوجی کی پروفیسر اور مطالعے کی شریک سینئر مصنف ڈاکٹر سوزین نوبل نے کہا، ’’وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہسی آریسفعال طور پر اپنے رسوب کو جلد کو ایک بہترین افزائشمیں تبدیل کرنےکیلئے استعمال کرتی ہے۔کنڈیڈا آریس کوفی الحال جلد سے ہٹانے کا کوئی ایک ٹھوس طریقہ نہیں ہے۔ کچھ ڈاکٹر انفیکشن کو ختم کرنے کے لیے متعدد اینٹی فنگل ادویات کا مرکب استعمال کرتے ہیں۔