Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے ڈی ایم سی کے ۲۰؍ کارپوریٹرز کے بلا مقابلہ انتخاب کو عدالت میں چیلنج

Updated: May 07, 2026, 7:07 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے انتخابی نتائج ایک نئے قانونی تنازع کا شکار ہو گئے ہیں۔ شہر کے ۲۰؍ حلقوں سے امیدواروں کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے فیصلے کو مقامی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

5 Shinde Sena Corporators Elected Unopposed.Photo:INN
شندے سینا کے ۵؍کارپوریٹربلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ تصویر:آئی این این
 کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے انتخابی نتائج ایک نئے قانونی تنازع کا شکار ہو گئے ہیں۔ شہر کے ۲۰؍ حلقوں سے امیدواروں کے بلامقابلہ منتخب ہونے کے فیصلے کو مقامی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نہ صرف منتخب کارپوریٹرز بلکہ الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔
 
 
تفصیلات کے مطابق کانگریس پارٹی کے مقامی لیڈر ماما پگارے نے کلیان کی سول کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں بی جے پی اور شندے سینا کے مجموعی طور پر بلا مقابلہ منتخب  ہوئے۲۰؍ کارپوریٹرز کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد تمام فریقین اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت ۸؍جون کیلئے مقرر کر دی ہے۔درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ عزیر نجے نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے ۲۰۱۸ء کے سرکیولر کے تحت انتخابی قوانین میں بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ اگر کسی حلقے میں نوٹا کو ۵۰؍ فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں تو وہاں دوبارہ انتخاب لازمی ہے۔  ۲۰۰۲ء کے بعد سے یہ قانون ختم کر دیا گیا ہے کہ واحد امیدوار ہونے کی صورت میں کسی کو براہ راست بلامقابلہ منتخب قرار دیا جائے۔
 
 
وکیل کا کہنا ہے کہ قانون کی اس تبدیلی کے باوجود کے ڈی ایم سی انتخابات میں بی جے پی کے ۱۵؍ اور شندے سینا کے ۵؍ امیدواروں کو بلامقابلہ فاتح قرار دے دیا گیا جو سراسر ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کیلئے قانونی طور پر ۱۰؍ دن کی مہلت ہوتی ہے جبکہ یہ درخواست ۷۸؍ دنوں کی تاخیر سے دائر کی گئی۔ تاہم عدالت نے کیس کی اہمیت اور قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تاخیر کو درگزر کر دیا اور عرضی کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لیا۔ درخواست گزار ماما پگارے نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ۲۰؍نشستوں پر انتخاب کو کالعدم قرار دے کر وہاں نئے سرے سے ووٹنگ کرائی جائے تاکہ ووٹرز کو نوٹا کا حق استعمال کرنے کا موقع مل سکے۔ اب تمام نظریں ۸ جون کی سماعت پر لگی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK