شہری علاقوں کی بی جے پی کے اثر والی سیٹوں میں۲۰؍ فیصد جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں رائے دہندگان میں۱۰؍ سے ۱۲؍ فیصد تک ہی کمی۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 10:51 AM IST | Abdullah Arshad | Mumbai
شہری علاقوں کی بی جے پی کے اثر والی سیٹوں میں۲۰؍ فیصد جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں رائے دہندگان میں۱۰؍ سے ۱۲؍ فیصد تک ہی کمی۔
اتر پردیش میں ایس آئی آر کے بعد فائنل ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد تقریباً ۲؍ کروڑ ۴؍ لاکھ لوگوںکے نام کٹے ہیں جس میں سب سے زیادہ شہری علاقوں کےووٹرس شامل ہیں جبکہ مسلم اکثریتی سیٹوں پر دس سے بارہ فیصد ہی نام کم ہوئے ہیں۔ راجدھانی لکھنؤ ، غازی آباد ، پریاگ راج ، کانپور میں ۲۰؍ سے ۲۳؍ فیصد جبکہ بجنور، سہارنپور ، مرادآباد ، سنبھل اور شاملی جیسے اضلاع میں ۱۰؍سے۱۲؍ فیصد ہی نام کٹے ہیں ۔ ان اضلاع کا شمار مسلم اکثریتی علاقوں کے طور پر ہوتا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: پونے میں ۶؍ بدعنوان پولیس والوں کی برطرف کی تیاری، ۳؍ فرار
اتر پردیش میں جامع خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کی ابتدا میں ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایس آئی آر پر توجہ دینے کی بات کہی تھی، لیکن اسکے باوجود بی جے پی خیمہ میں ایس آئی آر کے تعلق سے زیادہ جوش نہیں دکھائی دیا۔ اب جبکہ فائنل ووٹر لسٹ کی اشاعت میں دو کروڑ چار لاکھ ووٹرس کے نام کٹ گئے ہیں تو اب بی جے پی کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسی لسٹ کی بنیاد پر آئندہ سال اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کرائے جائیں گے ۔ جاری کی گئی لسٹ میں سب سے زیادہ راجدھانی لکھنؤ میںتقریباً ۲۳؍ فیصد ، غازی آباد میں۲۰؍ فیصد ، کانپور ،آگرہ ، نوئیڈا اور میرٹھ میں تقریباً ۱۹؍ فیصد ووٹرس پہلے کے مقابلہ کم ہوئے ہیں۔ ان سبھی شہری علاقوں میں بی جے پی کا کافی اثر تھا ،انھیں ووٹروںکی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے یہاں کی اسمبلی اور لوک سبھا سیٹوں پر پارٹی قابض تھی۔ وہیں، مسلم غلبہ والے اضلاع میں بجنور ، مرادآباد ، سہارنپور ، مظفرنگر ، سنبھل اور شاملی میں ۱۰؍ سے ۱۲؍ فیصد ہی نام ہٹائے گئے ہیں ۔جبکہ ایس آئی آر سے قبل بی جے پی اور اس کی حامی پارٹیوں کا دعویٰ تھا کہ مسلم اکثریت والے علاقوںمیں بڑی تعداد میں نام ہٹائے جائیں گے کیونکہ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں دراندازوں کے نام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دہلی میں اشوک کھرات کا نام لے کر لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں‘‘
گزشتہ روز چیف الیکشن افسر نودیپ رنوا نے لوک بھون میں میڈیا سے خطاب کرتےہوئے ان تمام باتوں کی جانکاری دینے کے علاوہ بتایا تھا کہ ایس آئی آر میں شفافیت کو پوری طرح سے برقرار رکھا گیا تھا۔ بغیر مقررہ ضابطے کے کسی بھی ووٹر کا نام لسٹ سے نہیں ہٹایا گیا۔ واضح رہے کہ ابھی حال کے دنوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جن ریاستوں میں ایس آئی آر کرایا گیا ہے، اس میں گجرات میں ۱۳ء۴۰ فیصد کے بعد اتر پردیش دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹروں کے نام ہٹانے والی ریاست بن گئی ہے۔