صنعتی شہر میں گٹکا مافیاکی دیدہ دلیری ایک بار پھر سامنے آگئی جہاں میونسپل کارپوریشن کے ڈمپنگ گراؤنڈ میں دفن کیا گیا لاکھوں روپے مالیت کا ضبط شدہ گٹکا رات کی تاریکی میں جے سی بی مشین کے ذریعے نکال لیا گیا۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 11:45 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
صنعتی شہر میں گٹکا مافیاکی دیدہ دلیری ایک بار پھر سامنے آگئی جہاں میونسپل کارپوریشن کے ڈمپنگ گراؤنڈ میں دفن کیا گیا لاکھوں روپے مالیت کا ضبط شدہ گٹکا رات کی تاریکی میں جے سی بی مشین کے ذریعے نکال لیا گیا۔
صنعتی شہر میں گٹکا مافیاکی دیدہ دلیری ایک بار پھر سامنے آگئی جہاں میونسپل کارپوریشن کے ڈمپنگ گراؤنڈ میں دفن کیا گیا لاکھوں روپے مالیت کا ضبط شدہ گٹکا رات کی تاریکی میں جے سی بی مشین کے ذریعے نکال لیا گیا۔ اس سنسنی خیز واقعہ نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور میونسپل حکام و پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کرائم برانچ نے بھیونڈی کے دیہی علاقے سونالے میں کارروائی کرتے ہوئے تقریباً ۲۵؍ لاکھ روپے مالیت کا گٹکا ضبط کیا تھا۔ بعد ازاں عدالتی اجازت حاصل کرنے کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے افسران کی نگرانی میں اسے جمعہ کی دوپہر چاوِندرا۔رام نگر واقع ڈمپنگ گراؤنڈ میں ۲۰؍ تا ۲۵؍ فٹ گہرا گڑھا کھود کر تلف کرنے کے مقصد سے دفن کیا گیا تھا۔تاہم اسی رات (جمعہ اور سنیچر کی شب) گٹکا مافیا نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جے سی بی مشین کے ذریعے گڑھا کھود کر بڑی مقدار میں گٹکا دوبارہ باہر نکال لیا اور اسے ٹیمپو میں بھر کر لے جانے کی کوشش کی، جس میں وہ جزوی طور پر کامیاب بھی رہے۔
یہ بھی پڑھئے: بامبے ہائی کورٹ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں پر برہم
مقامی شہریوں کو جیسے ہی اس غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع ملی وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور ملزمین کو روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس کو بھی اطلاع دی گئی، پولیس کی آمد کی خبر ملتے ہی ملزمین گٹکے سے بھرا ٹیمپو موقع پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ واقعہ کے بعد ڈمپنگ گراؤنڈ کے علاقے میں کچھ دیر کے لئے کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ تعلقہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم ریکیٹ کا حصہ ہے، جس میں میونسپل کارپوریشن اور پولیس کے بعض اہلکاروں کی ممکنہ ملی بھگت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
ملی بھگت کا شبہ
شہریوں کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے تحت ضبط شدہ گٹکے کی مکمل نگرانی ضروری تھی لیکن اس طرح کی سنگین غفلت نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اطلاع ملنے پر مقامی کارپوریٹر ساجو صدیقی، روہیداس واگھمارے اور سابق کارپوریٹر وکاس نکم نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا معاملہ ’سیٹنگ ‘کے تحت انجام دیا گیا معلوم ہوتا ہے۔ ایف ڈی اے کے فوڈ انسپکٹر اروند کانڈیکر نے کرائم برانچ کی ٹیم نے جنوری میں سونالے علاقے سے تقریباً ۲۵؍لاکھ روپے مالیت کا گٹکا ضبط کیا تھا، جسے بعد ازاں کرائم برانچ اور ایف ڈی اے کی نگرانی میں ڈمپنگ گراؤنڈ کے بالائی حصے میں تقریباً ۲۵؍ فٹ گہرا گڑھا کھود کر تلف کرنے کیلئے ڈمپ کیا گیا۔ اس عمل کے دوران ڈمپنگ گراؤنڈ سے کثیر مقدار میں دھواں اٹھ رہا تھا، جس کے باعث مقامی سطح پر پریشانی پیدا ہوئی۔ رات ۱۲؍ بجے اس نوعیت کی کارروائی مناسب نہیں معلوم ہوتی۔ اس معاملے میں متعلقہ ڈرائیور کو حراست میں لے کر تفتیش کی جانی چاہیے۔ نیز میونسپل حکام اور پولیس سے بھی معلومات حاصل کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: موہنے میں ہزاروں گیس صارفین کو پریشانی کا سامنا
کرائم برانچ کے پی آئی شری راج مالی نے کہا کہ کرائم برانچ کی ٹیم نے عدالتی اجازت کے بعد ضبط صدہ گٹکھے کو تقریباً ۲۵؍ فٹ گہرا گڑھا کھود کر ڈمپنگ گراؤنڈ میں ڈمپ کیا گیا تھا۔ امکان ہے کہ یہ مال خراب ہو چکا ہوگا۔ مذکورہ ڈمپنگ گراؤنڈ میونسپل کارپوریشن کی نگرانی میں رہتا ہے۔ رات کے وقت جے سی بی وہاں کیسے پہنچی،اس کی تحقیقات کی جائےگی۔