یوپی جی آر پی کانسٹیبل جمشید نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کیلئے استعفیٰ دے دیا ، ان کا کہنا ہے کہ وہ سیاست میں آنا چاہتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 16, 2026, 8:05 PM IST | Lucknow
یوپی جی آر پی کانسٹیبل جمشید نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کیلئے استعفیٰ دے دیا ، ان کا کہنا ہے کہ وہ سیاست میں آنا چاہتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔
اتر پردیش میں گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) میں تعینات ایک مسلمان ہیڈ کانسٹیبل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ سیاست میں آنا چاہتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔محمد جمشید، جو بریلی علاقے میں تعینات تھے، حال ہی میں ایک ویڈیو بیان اور ان کے استعفیٰ کے خط کے آن لائن سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ استعفیٰ خط بریلی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوراگ آریہ کو بھیجا گیا تھا۔اپنے استعفیٰ خط میں جمشید نے کہا کہ انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایمانداری، خلوص اور نظم و ضبط کے ساتھ پولیس محکمے کی خدمت کی۔خط میں کہا گیا، ’’میں نے ہمیشہ اپنے فرائض پوری خلوص اور نظم و ضبط کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کی وردی نے مجھے معاشرے میں عزت دی، اور مجھے محکمے سے کوئی شکایت نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں مساجد و مدارس مسلسل نشانے پر،اِس بار اُناؤ کی مسجد عثمانی پر بلڈوزر چلا
بعد ازاں جمشید نے کہا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی سے شدید پریشان ہیں۔انہوں نے لکھا، ’’موجودہ وقت میں ملک اور ریاست میں فرقہ واریت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن رہے ہیں۔‘‘ جمشید نے کہا کہ اب وہ سماجی ہم آہنگی، اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے سیاست میں آنا چاہتے ہیں۔انہوں نے اپنے استعفیٰ خط میں لکھا: ’’میں سیاست میں آنا چاہتا ہوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔ اسی لیے میں اتر پردیش پولیس سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔‘‘ساتھ ہی ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا: ’’ہم بیرونی دشمنوں سے لڑ سکتے ہیں، لیکن ایک دوسرے سے نہیں۔ معاشرے کو زیادہ اعتماد، امن اور بھائی چارے کی ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی شمولیت انہیں سیکولر اقدار کو فروغ دینے اور سماجی اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: معروف میوزک ایپس پر ۵۲۳؍ ہندوتوا گانے، اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی: رپورٹ
واضح رہے کہ آبزرور پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ریلوے پولیس محکمے کو ابھی تک جمشید کا استعفیٰ باضابطہ طور پر موصول نہیں ہوا ہے، اور حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا اسے قبول کیا جائے گا۔ تاہم جمشید نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں پہلے بھی تادیبی بنیادوں پر پولیس لائنز بھیجا گیا تھا، تاہم الزامات کی نوعیت کے بارے میں باضابطہ وضاحت نہیں کی گئی ہے۔مزید برآں انہوں نے کہا کہ ا ندرونی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ پولیس فورس کے لیے نظم و ضبط اور احترام کو برقرار رکھا۔