• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیخ محمد کا نئی نسل کے نام خط: مستقبل کی قیادت اورعلم کو ہتھیار بنانے کی تلقین

Updated: October 01, 2026, 11:18 AM IST | Dubai

نئی نسل کے نام اپنے خط میں شیخ محمد بن راشد المکتوم نے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی قیادت کیلئے علم اور جدید مہارتوں کے ساتھ اپنی اقدار، ثقافتی شناخت اور انسانیت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum. Photo: INN
شیخ محمد بن راشد آل مکتوم۔ تصویر: آئی این این

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے نئی نسل کے نام ایک ذاتی نوعیت کا خط تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ تبدیلی کی قیادت کریں، تاریخ رقم کریں اور مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپنے پیغام میں شیخ محمد نے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے اور تیزی سے بدلتی دنیا میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کی، تاہم ساتھ ہی اپنی اقدار، شناخت اور انسانیت کو فراموش نہ کرنے پر بھی زور دیا۔ شیخ محمد کی کتاب ’’دی لیٹرز‘‘ میں شامل ’’نئی نسل کے نام ایک خط‘‘ میں انہوں نے اپنی کئی دہائیوں پر محیط قیادت کے دوران حاصل ہونے والے تجربات، مشاہدات اور اسباق کا ذکر کیا ہے۔ شیخ محمد نے لکھا، ’’میں یہ خط اس نسل کے نام کرتا ہوں جو تبدیلی کی قیادت کرے گی، جو مستقبل کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گی۔ یہ خط میں آپ کے نام وقف کرتا ہوں۔ ‘‘نوجوانوں کو اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور پوتے پوتیوں سے مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ ہر دور کی اپنی روح، ہر نسل کا اپنا مشن اور ہر زمانے کے اپنے لوگ ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فہد فاصل کا انکشاف: وجے نے سب سے پہلے کہا تھا کہ میں اداکار بنوں گا

آپ کی دنیا ہماری دنیا جیسی نہیں 
شیخ محمد نے نئی نسل سے کہا کہ ان کی دنیا، علم، ذرائع اور عزائم گزشتہ نسلوں سے بنیادی طور پر مختلف ہیں، اس لئے ان کی کامیابیاں اور کام بھی اسی لحاظ سے مختلف ہونے چاہئیں۔ انہوں نے لکھا کہ نوجوان ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھے ہیں جہاں علم کی رسائی جغرافیائی اور ثقافتی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک ایسی عالمی دنیا ہے جہاں علم سرحدوں کا پابند نہیں اور انسانی صلاحیتیں تیزی سے ذہین ٹیکنالوجی اور مواصلاتی الگورتھم سے جڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان ایسے اداروں، ترقی یافتہ شہروں اور جدید بنیادی ڈھانچے کے درمیان بڑے ہوئے ہیں، جہاں قوانین، علم، صلاحیتیں اور وسائل ان کیلئے دستیاب ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کا سب سے بڑا فائدہ علم تک رسائی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’’آپ کا سب سے طاقتور ذریعہ وہ مشین ہے جو سوچتی، تجاویز دیتی، لکھتی، منصوبہ بناتی اور کام انجام دیتی ہے۔ ‘‘ ان کے مطابق نوجوان صلاحیتیں اب انسانی صلاحیتوں کے ایک عالمی نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی: ۱۹۷۹ء میں کعبہ کا سنہری دروازہ بنانیوالے ۷۸؍ سالہ تھائی فنکار شاہی مہمان

روایتی حدود سے آزاد نسل
شیخ محمد نے اپنی نسل کی پرورش اور آج کے نوجوانوں کو درپیش دنیا کے درمیان واضح فرق بیان کیا۔ ان کے مطابق آج ایک نوجوان گھر بیٹھے امریکہ میں ہونے والی کسی کانفرنس کو دیکھ سکتا ہے، ایشیا کی کسی ٹیم کے ساتھ کام کر سکتا ہے اور یورپ کے کسی ماہر سے نئی مہارت سیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے اسے ایسی دنیا قرار دیا جہاں جغرافیائی فاصلے نے تعلیم، تعاون اور کامیابی کی راہ میں پہلے جیسی رکاوٹ نہیں چھوڑی۔ تاہم شیخ محمد نے خبردار کیا کہ تیز ذہن، نئی مہارتوں اور دنیا کو تشکیل دینے کے وسیع مواقع رکھنے کے باوجود نئی نسل کے بعض افراد بوریت، خود اطمینانی اور عجلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 
فٹ بال کے میدان سے ڈجیٹل دنیا تک
اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے شیخ محمد نے کہا کہ ان کی نسل کی دنیا محدود تھی اور روزمرہ زندگی گھر، اسکول اور کھیل کے میدان تک محدود رہتی تھی۔ آج کے نوجوانوں کی دنیا، ان کے بقول، اپنے اردگرد کے ماحول سے کہیں آگے پھیل چکی ہے۔ ان کی اسکرینیں بے شمار دنیاؤں کی کھڑکیاں کھولتی ہیں اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے انہیں لاکھوں لوگوں سے جوڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نسل کے دور میں تکنیکی تبدیلی معمولی صنعتی ترقی تک محدود تھی، جبکہ آج کی نسل کیلئے ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہیں اور اہم تبدیلیاں برسوں کے بجائے دنوں میں رونما ہو رہی ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں بھی اسی طرح بڑی تبدیلی آئی ہے۔ شیخ محمد نے کہا کہ ان کی نسل میں تعلیم کا انحصار زیادہ تر تدریس، یادداشت اور بار بار مشق پر تھا، جبکہ آج تعلیم کی بنیاد سوال کرنے، تخلیقی صلاحیت اور جدت پر ہونی چاہئے۔ کام کرنے کے طریقے بھی بنیادی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ادارے کام مکمل کرنے کیلئے ملازمین کی ٹیموں پر انحصار کرتے تھے، جبکہ آج ایک شخص ہزاروں ذہین الگورتھمز کی مدد لے کر اپنے کام انجام دے سکتا ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کو تیز کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شیخ زاید کی قیادت نے یو اے ای کو نئی شناخت دی: شیخ محمد کا شیخ زاید کے نام خط

آپ کے ذرائع زیادہ، صلاحیتیں مضبوط ہیں 
شیخ محمد نے نئی نسل کے بارے میں امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج انسانی ذہن علم اور شعور کے اعتبار سے زیادہ وسیع ہے، جبکہ افراد کی صلاحیتیں زیادہ طاقتور، تیز اور مؤثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے لکھا، ’’آپ کے ذرائع زیادہ ہیں، آپ کی صلاحیتیں زیادہ مضبوط ہیں۔ ‘‘انہوں نے نوجوانوں کو بتایا کہ وہ ایک ایسی مختلف دنیا کیلئے تیار کئے گئے ہیں جہاں وہ ایسے کام انجام دے سکتے ہیں جن کا ان کے والدین اور دادا دادی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جدید دنیا کو نوجوانوں سے صرف ماضی کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق کامیابی کا معیار گزشتہ نسلوں کی خصوصیات کو برقرار رکھنا نہیں، بلکہ مستقبل کیلئے درکار مہارتیں حاصل کرنا ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور

اقدار ہمیشہ قائم رہنی چاہئیں 
ٹیکنالوجی اور معاشرے میں ہونے والی وسیع تبدیلیوں کے باوجود شیخ محمد نے اپنے خط میں اقدار کو مرکزی حیثیت دی اور خبردار کیا کہ ترقی کی قیمت کردار، شناخت یا انسانیت کو نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے لکھا، ’’میرے بیٹو اور پوتے پوتیو، دانائی یہ نہیں کہ آپ اپنے باپ دادا کے ذہن کے ساتھ زندگی گزاریں، بلکہ حقیقی دانائی یہ ہے کہ آپ ان کی اقدار، اخلاق اور اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں۔ ‘‘ان کے مطابق وقت کے ساتھ اقدار تبدیل نہیں ہوتیں اور نسلوں کی تبدیلی کے ساتھ خلوص اور سچائی کی اہمیت بھی ختم نہیں ہوتی۔ انہوں نے لکھا کہ ہر دور اور ہر جگہ دیانت داری ضروری ہے، جبکہ امانت داری، وعدوں کی پاسداری، انصاف، رواداری، ہمدردی اور دوسروں کا احترام انسانی زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ان کے مطابق ایسی اقدار کے بغیر زندگی قائم نہیں رہ سکتی اور حقیقی توازن بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: یہودی آباد کاروں کی دہشت گردی جاری۔ مسجداقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولا، تلمودی رسومات اداکیں

شناخت مستقبل تک پہنچنے کا پل ہے
شیخ محمد نے تیزی سے باہم جڑتی ہوئی دنیا میں ثقافتی شناخت کھو دینے کے خطرے سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص کا کوئی ماضی نہیں، اس کا حال بھی نہیں ہوتا، جبکہ آج کی دنیا میں ثقافتی شناخت سے محروم شخص مستقبل سے وابستگی کا احساس بھی کھو دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کے پاس اپنی حفاظت اور رہنمائی کیلئے اقدار کا کوئی نظام نہیں ہوتا، وہ مسلسل انتشار کی شکار دنیا میں بہہ سکتے ہیں۔ شیخ محمد نے لکھا، ’’زندگی نے مجھے سکھایا ہے کہ جو اپنی جڑوں کو چھوڑ دیتا ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں رہتی؛ جو اپنی ثقافت کو چھوڑ دیتا ہے، اس کا کوئی وزن نہیں رہتا؛ اور جو اپنی اقدار کو چھوڑ دیتا ہے، اس کی زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔ ‘‘خط کے اختتام پر انہوں نے اس نسل پر اعتماد کا اظہار کیا جو ملک کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’میرے بیٹو اور پوتے پوتیو، ہم آپ کی آنکھوں میں ایک نئی دنیا، آپ کے خوابوں میں ایک عظیم نشاۃ ثانیہ اور آپ کے وطن کو آپ کے کندھوں پر نئی بلندیوں کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ‘‘انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:’’اپنے علم کو اپنا ہتھیار، اپنی جڑوں کو اپنی طاقت، اپنے عزائم کو اپنا آسمان اور اپنی اقدار کو اپنا قطب نما بنائیں۔ ‘‘شیخ محمد نے اپنے خط کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
’’اللہ آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کو کامیابی عطا کرے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK