کانگریس جنرل سیکریٹری نے وائناڈ دورہ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سی ای سی نے انتخابی عمل اور جمہوری نظام سے چھیڑ چھاڑ کی ہے جو ناقابل معافی ہے۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 9:55 AM IST | Agency | Wayanad:
کانگریس جنرل سیکریٹری نے وائناڈ دورہ پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سی ای سی نے انتخابی عمل اور جمہوری نظام سے چھیڑ چھاڑ کی ہے جو ناقابل معافی ہے۔
انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کے معاملے نے سیاسی تنازع کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انتخابی عمل سے چھیڑ چھاڑ کے معاملہ میں فوجداری مقدمہ چلانے اور غداری کی دفعہ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔وائناڈ کے دورے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ جو شخص انتخابات کے عمل اور جمہوری نظام کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے، وہ ملک سے غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ پرینکا کے مطابق کسی ایسے عہدیدار کو قانونی تحفظ نہیں ملنا چا ہئے، اگر اس نے غیر قانونی اقدامات کئے ہوں۔ اسی لئے میرا اور کانگریس پارٹی کا یہی مطالبہ ہے کہ گیانیش کمار کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کی جانی چاہئے۔اس سے کم میںہم نہیں مانیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲؍ اکتوبر کے’’نو یوپی آئی ڈے‘‘ کو تاجروں کی قومی تنظیموں کی بھی حمایت
پرینکا گاندھی نے کہا کہ ووٹرلسٹ میں چھیڑ چھاڑ اور تقریباً۱۳؍کروڑ ناموں کا حذف کیا جانا جمہوریت، آئین اور ملک کے خلاف ایک مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی فہرستوں میں غیر قانونی طریقے سے تبدیلیاں کی گئی ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت فوجداری کارروائی ہونی چا ہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کے دیگر اراکین نے بے ضابطگیوں کی طرف توجہ دلائی، لیکن انہیں نظرانداز کیا گیا۔
پرینکا گاندھی نے اور کیا کہا ؟
پرینکا نے کہا کہ کم از کم ۱۴؍ مرتبہ الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر تحریری اعتراضات درج کرائے گئے ، یہ ہم نے نہیں بلکہ الیکشن کمشنرس نے کرائے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور ان اعتراضات کو نظر انداز کردیا گیا تو پھر سوال نیت پر اٹھنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کو درست کرنے کی سی ای سی کی نیت ہی نہیںتھی اور یہ رپورٹ سے واضح ہے۔