Updated: March 30, 2026, 8:57 PM IST
| New York
دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک روسی ٹینکر کو کیوبا تک خام تیل پہنچانے کی اجازت دی، حالانکہ امریکہ نے پہلے سخت ناکہ بندی نافذ کر رکھی تھی۔ تقریباً ۷؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار بیرل تیل لے جانے والا جہاز کیوبا کی توانائی بحران کے دوران ایک عارضی ریلیف فراہم کرے گا۔ اس فیصلے نے واشنگٹن کی پالیسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ پہلے ہی ناکہ بندی کو انسانی بحران کا سبب قرار دے چکا ہے۔
دی نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک روسی آئل ٹینکر کو کیوبا تک خام تیل پہنچانے کی اجازت دے دی ہے، حالانکہ امریکہ نے مہینوں سے کیوبا پر سخت توانائی ناکہ بندی عائد کر رکھی تھی۔ یہ ٹینکر، جس میں تقریباً ۷۳۰۰۰۰؍ بیرل خام تیل موجود ہے، متانزاس ٹرمینل پر پہنچنے والا ہے، اور اسے کیوبا کے لیے ایک اہم ’’انرجی لائف لائن‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
توانائی بحران: کیوبا کی مشکلات میں عارضی ریلیف
رپورٹ کے مطابق، اس ترسیل سے کیوبا کو کم از کم چند ہفتوں کے لیے ایندھن کی شدید قلت سے بچنے میں مدد ملے گی۔ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ملک میں پہلے ہی، روزانہ بجلی کی بندش، ایندھن کی شدید کمی، قیمتوں میں اضافہ اور طبی خدمات میں رکاوٹ جیسے مسائل سامنے آ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی امریکی ناکہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’’انسانی بحران‘‘ کو بڑھانے والا عنصر قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حزب اللہ کے ۱۱۰۰؍ حملے، یمن سے ڈرون، کویت پر حملہ، جنگ پورے خطے میں پھیل گئی
امریکی پالیسی میں تضاد؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری میں کیوبا پر سخت تیل ناکہ بندی نافذ کی تھی، جس کے تحت دیگر ممالک کو بھی دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ کیوبا کو ایندھن فراہم کریں گے تو انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک واقعے میں، امریکی حکام نے ایک آئل ٹینکر کو کیوبا پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا تھا۔ تاہم اس بار، امریکی کوسٹ گارڈ کے پاس موقع ہونے کے باوجود روسی جہاز کو نہیں روکا گیا، جس نے پالیسی میں واضح تضاد کو جنم دیا ہے۔
ممکنہ وجہ: روس سے تصادم سے بچاؤ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے ایک اہم وجہ روس کے ساتھ براہ راست کشیدگی سے بچنا ہو سکتی ہے۔ اگر امریکہ ٹینکر کو روکنے کی کوشش کرتا، تو یہ ماسکو کے ساتھ ایک بڑے سفارتی یا حتیٰ کہ فوجی تنازعے کا باعث بن سکتا تھا۔ یہ فیصلہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کیوبا اب بھی اپنے دیرینہ اتحادی روس پر انحصار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کم از کم قلیل مدت کے لیے۔
یہ بھی پڑھئے: یروشلم چرچ رسائی تنازع: عالمی دباؤ پر اسرائیل کا یوٹرن
سیاسی تناؤ: کیوبا کی حکومت پر دباؤ
امریکہ نہ صرف اقتصادی دباؤ بڑھا رہا ہے بلکہ سیاسی سطح پر بھی تبدیلی کی بات کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ ’’میں کیوبا پر قبضہ کرنے کا اعزاز حاصل کرنا چاہوں گا۔‘‘ انہوں نے مزید عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بعد کیوبا کو بھی ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ ماکو روبیو نے کہا کہ ’’کیوبا کی معیشت اس وقت تک تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک اس کا نظام حکومت تبدیل نہ ہو۔‘‘
کیوبا کا ردعمل: دفاع کی تیاری
کیوبا نے امریکی بیانات کے بعد سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کیوبا کے نائب وزیر خارجہ کارلوس فرنانڈیز ڈی کوسیو نے کہا کہ ’’ہماری فوج ہمیشہ تیار ہے… ہم فوجی جارحیت کے امکان کے لیے بھی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے ایسی تیاری ضروری ہے، تاہم کیوبا تصادم سے بچنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران میں اہداف تباہ، تیل اور یورینیم پر کنٹرول منصوبہ
وسیع تناظر: بڑھتی عالمی کشیدگی
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی بڑھ رہی ہے، خاص طور پر امریکہ، روس اور ایران کے درمیان۔ کیوبا، جو فلوریڈا سے صرف ۱۰۰؍ میل کے فاصلے پر واقع ہے، ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ روسی ٹینکر کو کیوبا پہنچنے کی اجازت دینا بظاہر ایک چھوٹا فیصلہ لگ سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات بڑے ہیں۔ یہ نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی میں پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ توانائی، سیاست اور انسانی بحران کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔