• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانوی گلوکارہ پالوما فیتھ نے ایڈ شیران کی ’سیاسی غیر جانبداری‘ پر سوال اٹھایا

Updated: September 17, 2026, 6:05 PM IST | London

برطانوی گلوکارہ پالوما فیتھ نے امریکی ریپر میکلمور کو ایڈ شیران کے امریکی ٹور سے الگ کیے جانے کے معاملے پر شیران کی ’سیاسی غیر جانبداری‘ پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ فلسطین کے حق میں میکلمور کے بیانات کے بعد شروع ہونے والے تنازع میں دیگر فنکاروں کی ٹور سے علاحدگی اور میکلمور کا فلسطینی امداد کے لیے ایک ملین ڈالر عطیے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔

Ed Sheeran and Paloma Faith. Photo: X
ایڈ شیران اور پالوما فیتھ۔ تصویر: ایکس

برطانوی گلوکارہ پالوما فیتھ نے امریکی ریپر میکلمور کو گلوکار ایڈ شیران کے امریکی ٹور سے نکالے جانے کے معاملے پر شیران کی ’’سیاسی غیر جانب داری‘‘ پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب میکلمور کو فلسطین کے حق میں بیانات دینے کے بعد شیران کے ’لوپ ٹور‘ سے الگ کر دیا گیا، جبکہ دیگر معاون فن کاروں نے بھی اس فیصلے کے خلاف ٹور چھوڑ دیا۔ پالوما فیتھ کی جانب سے ایڈ شیران کی سیاسی غیر جانب داری پر سوال اٹھانے کا معاملہ برطانوی میڈیا میں نمایاں ہوا ہے۔ پالوما فیتھ نے کہا، ’’میں نے ایڈ شیران کے ساتھ یوکرین کے لیے چندہ جمع کرنے کی غرض سے ایک کنسرٹ میں پرفارم کیا تھا، لہٰذا اس اقدام میں وہ بھی سیاسی غیر جانب دار نہیں تھے۔ مجھے واقعی سمجھ نہیں آتا کہ ایک معاملے کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ سیاسی کیوں سمجھا گیا۔” انہوں سوال کیا کہ یہ معاملہ اس بحث سے جڑا ہے کہ فنکار اپنے موسیقی کے پروگراموں میں سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل پر اظہارِ خیال سے خود کو کس حد تک الگ رکھ سکتے ہیں۔ میکلمور کے معاملے میں فلسطین کے حق میں ان کے بیانات نے ٹور منتظمین، مقامات کے مالکان اور دیگر فن کاروں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

واضح ہو کہ میکلمور کو ایڈ شیران کے امریکی ٹور سے نکالے جانے کا معاملہ ۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والی ایک پرفارمنس کے بعد سامنے آیا۔ میکلمور نے اس دوران فلسطین کے حق میں نعرہ لگایا اور غزہ و مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ بعد ازاں ان کے ٹور سے الگ کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ میکلمور نے کہا کہ انہیں ٹور سے ہٹانے کے فیصلے کے پیچھے اسرائیل کے حامی گروہوں اور مقامات کے مالکان کا دباؤ تھا۔ تاہم، اس معاملے میں مختلف فریقوں کے بیانات سامنے آئے ہیں اور فیصلہ کس کی حتمی ہدایت پر ہوا، اس پر اختلاف موجود ہے۔ تاہم اس معاملے میں ایڈ شیران نے ۱۵؍ ستمبر کو انسٹاگرام پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ٹور کے پروموٹرز اور اسٹیڈیم کے مالکان کی جانب سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے اور مختلف فریقوں کے درمیان پل بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ شیران نے اپنے موسیقی کے پروگراموں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ ان کے مطابق موسیقی لوگوں کو متحد کرنے کا ذریعہ ہے اور وہ اپنے ٹور کو ایک ایسی جگہ کے طور پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں جہاں مختلف خیالات رکھنے والے افراد شریک ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: پریتی زنٹا، پنکج ترپاٹھی اور سنیل شیٹی نئے سی بی ایف سی بورڈ میں شامل

دیگر فن کاروں نے بھی ٹور چھوڑ دیا

میکلمور کو ٹور سے نکالے جانے کے بعد ایڈ شیران کے ساتھ پرفارم کرنے والے دیگر معاون فن کاروں نے بھی ٹور سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ان میں امریکی موسیقار فنیاس، ڈینش پوپ بینڈ لوکاس گراہم، آئرش گلوکار اور نغمہ نگار آرون رو اور آئرش بینڈ بیوگا(Beoga) شامل ہیں۔  ان فن کاروں نے سوشل میڈیا پر اپنے فیصلوں کا اعلان کیا اور اظہارِ رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کے مسائل پر آواز اٹھانے والے فن کاروں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

میکلمور نے فلسطینی امداد کے لیے ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا

میکلمور نے ۱۶؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو اعلان کیا کہ وہ ایڈ شیران کے لوپ ٹور سے حاصل ہونے والی اپنی ایک ملین ڈالر کی آمدنی فلسطینی امدادی تنظیموں کو عطیہ کریں گے۔ انہوں نے اسرائیل کے حامی ارب پتی اور گلٹ اسٹیڈیم کے مالک رابرٹ کرافٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس عطیے کے برابر رقم فلسطینی امداد کے لیے دیں۔ میکلمور نے فلسطینیوں کے حق میں اپنی حمایت برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ ان کے ٹور سے اخراج کے بعد یہ تنازع موسیقی، آزادیٔ اظہار اور فلسطین کے مسئلے کے درمیان تعلق پر نئی بحث کا باعث بنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مس یونیورس انڈیا کی فائنلسٹ اُمانگا کُماوت کی گوگل میں واپسی، دفتر میں گزرا دن دکھایا

فنکاروں کی سیاسی غیر جانب داری پر بحث

پالوما فیتھ کا مؤقف اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ کیا فنکار سیاسی معاملات سے خود کو الگ رکھ سکتے ہیں، خاص طور پر جب ان کے ساتھی فن کاروں کو کسی سیاسی بیان یا انسانی حقوق کے مؤقف کی وجہ سے پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہو۔ ایڈ شیران نے ٹور کو غیر سیاسی رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ میکلمور نے فلسطینی عوام کے حق میں اپنے مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔ دیگر فن کاروں کی ٹور سے علاحدگی نے بھی اس اختلاف کو مزید نمایاں کیا ہے۔ تاہم یہ تنازع ابھی جاری ہے اور اس میں شامل فنکاروں، ٹور منتظمین اور مقامات کے مالکان کے بیانات کے باعث موسیقی کی دنیا میں اظہارِ رائے کی آزادی اور فن کاروں کی سماجی ذمہ داریوں پر بحث جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK