Inquilab Logo Happiest Places to Work

بحری سلامتی اور پنامہ نہر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور چین میں لفظی جھڑپیں

Updated: August 12, 2025, 8:59 PM IST | New York

واشنگٹن نے خبردار کیا کہ چین کے جارحانہ اقدامات، نہ صرف پنامہ اور امریکہ بلکہ مجموعی طور پر عالمی تجارت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ بیجنگ نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔

UN Security Council: Photo: INN
یو این سیکوریٹی کونسل۔ تصویر: آئی این این

پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور چین کے درمیان بحری سلامتی کے موضوع پر گرما گرم بحث ہوئی جس میں دونوں فریقوں نے خودمختاری، عالمی تجارت کے خطرات اور علاقائی استحکام کے سلسلے میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی قائم مقام نمائندہ ڈوروتھی شیا نے پنامہ نہر کے اسٹریٹیجک کردار کو ”تجارت اور اقتصادی تحفظ کیلئے دنیا کے عظیم ترین آلات میں سے ایک“ قرار دیا اور اس کی امریکہ کے ذریعے تعمیر اور واشنگٹن اور پنامہ کے درمیان قریبی سلامتی تعاون کی بھی ستائش کی۔

شیا نے ”بدنیتی پر مبنی بحری سائبر سرگرمیوں کا جواب دینے میں پنامہ کی بڑھتی ہوئی چوکسی“ کی تعریف کی لیکن "پنامہ نہر کے علاقے، بالخصوص اہم انفراسٹرکچر اور بندرگاہوں کے متبادلات پر غیر معمولی چینی اثر و رسوخ“ پر تشویش کا اظہار کیا۔ شیا نے کونسل کو بتایا کہ ”بحری علاقوں پر چین کے وسیع اور غیر قانونی دعوے اور جارحانہ اقدامات، بحری سلامتی اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ ہیں۔“ شیا نے خبردار کیا کہ ایسا اثر و رسوخ نہ صرف پنامہ اور امریکہ بلکہ مجموعی طور پر عالمی تجارت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے پابندیوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل کے ۴؍اراکین نے غزہ کو ضم کرنے کے اسرائیل کے منصوبے کی مذمت کی

چین نے امریکی الزامات کی مذمت کی

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کانگ نے امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا اور الزام لگایا کہ واشنگٹن اسٹریٹیجک آبی گزرگاہوں پر اپنے کنٹرول کو جائز قرار دینے کیلئے ”بے بنیاد الزامات“ لگا رہا ہے۔ فو کانگ نے کہا کہ ”چین نے ہمیشہ نہر پر پنامہ کی خودمختاری کا احترام کیا ہے اور اس کی مستقل غیر جانبداری کو تسلیم کرتا ہے۔“ انہوں نے امریکہ کے تبصروں کو ”من گھڑت جھوٹ اور بے بنیاد حملے“ قرار دیا۔ انہوں نے واشنگٹن پر فوجیوں کی تعیناتی، مشقوں اور ایک ”غالب، سرد جنگ کی ذہنیت“ کے ذریعے ”جنوبی بحیرہ چین میں امن اور استحکام کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا“ ہونے کا الزام لگایا۔

چینی نمائندے نے اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متعلق کنونشن (یو این سی ایل او ایس UNCLOS) کی توثیق نہ کرنے اور ”یکطرفہ طور پر بین الاقوامی سمندری وسائل کا استحصال“ کرنے پر بھی امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے اقدامات ”عالمی بحری سلامتی کے خطرات کو شدید طور پر بڑھاتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل نے شام کے شہر سویدہ میں قتل و غارت گری کی مذمت کی

دوسری طرف، پنامہ کے صدر جوس راول مولینو نے نہر کی غیر جانبداری اور کثیر الجہتی معاہدے کی نگرانی کیلئے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔ واضح رہے کہ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کو ملانے والی پنامہ نہر دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک ہے اور عالمی بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ سنبھالتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK