Updated: May 09, 2026, 9:10 PM IST
| Washington
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) میں ۷؍ مئی کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد سماعت کے دوران سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راقب حمید نائک نے آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے خلاف امریکی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات، تشدد اور بلڈوزر کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ۷؍ مئی کو منعقد ہونے والی ایک اہم سماعت میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ یہ سماعت United States Commission on International Religious Freedom (USCIRF) کے زیر اہتمام ہوئی، جس میں ماہرین، انسانی حقوق کے کارکنان اور پالیسی تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔ سماعت کے دوران Center for the Study of Organized Hate کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر Raqib Hameed Naik نے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور نفرت انگیز مہمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وی ایچ پی جیسی تنظیموں کے خلاف امریکہ کو پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ ان کے مطابق یہ تنظیمیں نفرت انگیز تقاریر، اقلیت مخالف مہمات اور زمینی سطح پر ہونے والے تشدد سے منسلک رہی ہیں۔
راقب نائک نے اپنی گواہی میں ’’بلڈوزر سیاست‘‘ کا بھی ذکر کیا، جس میں مختلف ہندوستانی ریاستوں میں اقلیتی برادریوں کے مکانات، دکانوں اور مذہبی مقامات کو انتظامی کارروائیوں کے نام پر منہدم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں استعمال ہونے والی مشینری فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ یہ سماعت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ چند برسوں سے ہندوستان میں مذہبی آزادی، نفرت انگیز تقاریر اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر عالمی سطح پر بحث بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی کمیشن اس سے قبل بھی ہندوستان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے ’’تشویش ناک ممالک‘‘ کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کرتا رہا ہے، اگرچہ نئی دہلی حکومت ان رپورٹس کو جانبدار اور حقیقت سے دور قرار دیتی رہی ہے۔ سماعت میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق مختلف تنظیموں نے حالیہ برسوں میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، ہجوم کے تشدد، مذہبی مقامات پر حملوں اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مہمات میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ راقب نائک کی تنظیم CSOH اور اس سے وابستہ پلیٹ فارمز ’’ہندوتوا واچ‘‘ اور ’’انڈیا ہیٹ لیب‘‘ طویل عرصے سے ایسے واقعات کی دستاویز بندی کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شوبھندو مغربی بنگال کے نئےوزیراعلیٰ
دوسری جانب ہندوستان میں حکمراں جماعت اور ہندوتوا تنظیموں کے حامی حلقے اکثر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہے اور بعض بین الاقوامی رپورٹس سیاسی بنیادوں پر تیار کی جاتی ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور نفرت انگیز مہمات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔