Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کی شہد کی صنعت اسرائیل کی نسل کشی کے سبب تباہی کے دہانے پر

Updated: July 22, 2026, 9:59 PM IST | Gaza

غزہ کی شہد کی صنعت اسرائیل کی نسل کشی کے سبب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، اس سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ چھتے، چراگاہوں کا خاتمہ، اور شدید قلت اس علاقے کی روایتی آمدنی کے ذرائع میں سے ایک کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ میں شہد کی مکھی پالنے کا شعبہ خاتمے کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ نے مکھیوں کے فارم تباہ کر دیے، پودوں اور درختوں کو مٹا دیا، اور مکھی پالنے والوں کو مشرقی غزہ کی پٹی میں اہم چراگاہوں تک پہنچنے سے روک دیا ہے۔ دریں اثناء غزہ میں مکھی پالنے والوں کی کوآپریٹو سوسائٹی کے۲۰۲۵ء کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک شہد کی پیداوار اور مکھی پالنے کے شعبے کو تقریباً۳۹؍ ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔سوسائٹی نے بتایا کہ تقریباً۳۰؍ ہزار مکھیوں کے چھتے تباہ ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ جنگ سے پہلے، یہ چھتے غزہ کے مقامی بازار کو سالانہ۳۸۰؍ سے ۴۰۰؍ ٹن شہد فراہم کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: میئر ممدانی نےنیتن یاہو کو ’جنگی مجرم‘ قرار دیا، آئی سی سی کےگرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کامطالبہ کیا

بعد ازاں اس نقصان نے پورے شعبے کی معاش کو بھی متاثر کیا ہے، اسرائیل نے۸۵؍ فیصد سے زیادہ پودوں اور جنگلی چراگاہوں کو تباہ کر دیا ہے، جس سے۶۰۰۰؍ سے زائد مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں اور۲۰۲۶ء کے وسط تک غزہ بھر میں۹۰۵؍ رجسٹرڈ مکھی پالنے والوں کی آمدنی کو نقصان پہنچا ہے۔ وسطی غزہ کے قصبے الزوائدہ میں، فلسطینی مکھی پال امین عید اور ان کا بیٹا تباہی کے درمیان باقی ماندہ چند چھتوں کی دیکھ بھال جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس پیشے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان کے خاندان کو ورثے میں ملا تھا۔عید نے خبر رساں ادارے انادولو کو بتایاکہ ،’’جنگ سے پہلے غزہ میں ۹۰۵؍ مکھی پالنے والے تھے اور وہ مقامی طور پر تیار شدہ شہد برآمد کرتے تھے، لیکن جنگ نے اس پیشے کی حقیقت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔انہوں نے کہا، ’’اسرائیلی فوج کی پیش قدمی اور نام نہادپیلی لائن کے نفاذ نے مکھی پالنے والوں کو صلاح الدین ا سٹریٹ کے مشرق کے علاقوں تک پہنچنے سے روک دیا، جو کہ شہد کی مکھیوں کے لیے اہم چراگاہوں میں سے تھے۔‘‘ عید نے مزید کہا، جس مکھی پالنے والے  کے پاس۳۰۰؍،۴۰۰؍ یا۵۰۰؍ چھتے ہوا کرتے تھے، اب اس کے پاس صرف۱۰؍ یا۲۰؍ چھتے رہ گئے ہیں اور وہ انتہائی محدود وسائل اور بہت زیادہ اخراجات کے ساتھ دوبارہ آغاز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانس: یورپی یونین سے مقبوضہ مغربی کنارے سے مصنوعات کی درآمد بند کرنے کا مطالبہ

ذہن نشین رہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت انخلا کیا تھا، اسی حد کو ’’پیلی لائن‘‘ کہا جاتاہے ۔ عید نے کہا، ’’عدم تحفظ اور مشرقی علاقوں تک رسائی پر مسلسل پابندیاں مکھی پالنے والوں کو اپنے چھتوں کو منتقل کرنے سے روک رہی ہیں، کیونکہ وہاں لے جانے کی کوئی بھی کوشش مالکان کو خطرے میں ڈالتی ہے۔‘‘ مزید برآں انہوں نے پیداواری اخراجات میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا، بتایا کہ موم کی شیٹس کے ایک باکس کی قیمت جنگ سے پہلے تقریباً۳۰؍ شیکل (۹؍ اعشاریہ ۸۳؍ ڈالر) تھی جو اب بڑھ کر۱۲۰۰؍ شیکل (۳۹۳؍ اعشاریہ  ۲۰؍ ڈالر) سے۱۵۰۰؍ شیکل (۴۹۱؍ اعشاریہ ۵۰؍ ڈالر) ہو گئی ہے، جبکہ ایک چھتے کے فریم کی قیمت۱۵؍ شیکل (۴؍ اعشاریہ ۹۲؍ ڈالر) سے۲۰؍ شیکل (۶؍ اعشاریہ  ۵۵؍ ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ مکھی پالنے والوں کو چھتے بنانے کے لیے لکڑی اور خانوں کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔ بد قسمتی سے  یہ بحران اس وقت شدید بگڑ گیا جب کچھ لوگوں نے ایندھن کی قلت اور اسرائیل کے مسلط کردہ قحط کے دوران تباہ شدہ چھتوں کے پرزوں کو جلانے کی لکڑی کے طور پر استعمال کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شاہ چارلس نے کیمبرج سینٹرل مسجد کا دورہ کیا، اسلامو فوبیا کے بڑھتے واقعات کے درمیان اہم قدم

بعد ازاں عید نے بین الاقوامی تنظیموں اور زرعی گروپوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مکھی پالنے کا سامان، بشمول موم، فریم، خانے اور چینی فراہم کریں، اور مکھی پالنے والوں کو محفوظ قدرتی چراگاہوں تک رسائی فراہم کریں۔انہوں نے کہا، ’’غزہ میں اعلیٰ معیار کے قدرتی شہد پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اسرائیلی پابندیاں ان وسائل کو استعمال کرنے سے روکتی ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہم شہد کو پیلا سونا کہا کرتے تھے۔ اگر سامان دستیاب ہو اور چراگاہیں دوبارہ کھول دی جائیں تو ہم خود کفالت حاصل کر سکتے ہیں۔ جب مکھی پالنے والے قدرتی فلسطینی شہد پیدا کر سکتے ہیں تو شہد درآمد کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘اسی کے ساتھ ہی تباہی کے باوجود، غزہ کے مکھی پالنے والے اپنے چھتوں کو بچانے کے لیے متبادل تلاش کرتے رہتے ہیں، جن میں ساحلی علاقوں اور رہائشی محلوں میں منتقلی اور چھوٹے جنگلی پودوں پر انحصار شامل ہے، کیونکہ یہ شعبہ سینکڑوں فلسطینی خاندانوں کے لیے غذائی تحفظ اور آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے جو زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK