امریکی حراست میں،وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا ایکس اکاؤنٹ بحال ہوگیا، ’’گمشدہ‘‘ پوسٹر شیئر کیا گیا، جس کے بعد چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں کہ کیا وہ جیل سے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں؟
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 10:02 PM IST | Caracas
امریکی حراست میں،وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا ایکس اکاؤنٹ بحال ہوگیا، ’’گمشدہ‘‘ پوسٹر شیئر کیا گیا، جس کے بعد چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں کہ کیا وہ جیل سے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں؟
وینزویلا میں امریکی فضائی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے چند دن بعدان کا ایکس پلیٹ فارم دوبارہ قابل رسائی ہو گیا۔بعد ازاں بحالی کے فوری بعد، مادورو کے ایکس پروفائل پر ایک گرافک اسٹائل والا ’’لاپتہ فرد‘‘ پوسٹر شیئر کیا گیا۔ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز، جو پہلے مادورو کی نائب صدر رہ چکی ہیں، نے بھی اپنے پروفائل پر اپ ڈیٹ شیئر کیا۔روڈریگز نے کہا، ’’ہم اس چینل کے ذریعے رابطہ بحال کرتے ہیں۔ وینزویلا تاریخی شعور اور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے۔ آئیے متحد رہیں، معاشی استحکام، سماجی انصاف اور فلاحی ریاست کی طرف بڑھیں جس کے ہم حقدار ہیں۔‘‘
مادورو نے خود اپنا اور اپنی اہلیہ سیلِیا فلورس کا لاپتہ افراد کے انداز میں گرافک پوسٹر شیئر کیا، جو۳؍ جنوری کو کراکس میں امریکی فوجیوں کی جانب سے ان کی گرفتاری کے۱۱؍ دن مکمل ہونے کی نشاند ہی کرتا ہے۔ اس پر ان کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے ہیش ٹیگ بھی تھا۔
یہ بھی پڑھئے: تنظیم ہند رجب نے اسرائیلی فوجی کیخلاف آسٹریا میں فوجداری مقدمہ دائر کیا
واضح رہے کہ جیسے ہی سال۲۰۲۶ء کا آغاز ہوا، ٹرمپ نے امریکی فوج کو ’’آپریشن ابیولیوٹ ریزول شروع کرنے کا حکم دیا۔ یہ وینزویلا میں امریکی براہ راست مداخلت تھی جس کے نتیجے میں نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلِیا فلورس کو کراکس میں ان کے رہائشی کمپاؤنڈ سے گرفتار کر لیا گیا۔ مادورو اور فلورس کو نیو یارک سٹی لایا گیا اور ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے۔بعد ازاں انہوں نے مینہٹن کی وفاقی عدالت میں الزامات سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ وینزویلا چلائیں گے۔
دریں اثناء، نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو وینزویلا کی قائم مقام صدر کے طور پر حلفدلایا گیا۔ جہاں انہوں نے مادورو کی گرفتاری کی مذمت کی، وہیں ان کی حکومت نے ’’امن کو مستحکم کرنے‘‘ کے اشارے کے طور پر کچھ سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا شروع کر دیا ہے۔ نئی قیادت نے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے پر بات چیت بھی شروع کی۔ اہلکاروں کے مطابق امریکی سفارتکار کراکس میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولنے پر بات چیت کے لیے موجود تھے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں دنیا کی چند بڑی تیل کمپنیوں کے ایگزیکٹوز سے ملاقات بھی کی اور ان سے وینزویلا کے بحران زدہ تیل کے صنعت کو بحال کرنے میں مدد کے لیے۱۰۰؍ ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی اپیل کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مکمل سیکیورٹی والا ایک نیا ملک ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایرانیوں سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی، کہا ’مدد راستے میں ہے‘
یاد رہے کہ یہ وائٹ ہاؤس ملاقات اس وقت ہوئی جب امریکی فوجیوں نے مادورو کو گرفتار کیے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا، اور ٹرمپ نے یہ راز نہیں رکھا کہ وینزویلا کے تیل پر کنٹرول ان کے اقدامات کا مرکزی مقصد تھا۔