Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی سفارتخانہ کی حج سے متعلق وارننگ، کشیدگی کے باعث سفر پر نظرثانی

Updated: April 08, 2026, 9:58 PM IST | Jeddah

سعودی عرب میں قائم امریکی سفارتخانہ نے امریکی شہریوں کو جاری علاقائی کشیدگی کے پیش نظر اس سال حج کی ادائیگی پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سفارتخانے کے مطابق سیکوریٹی صورتحال اور سفری رکاوٹوں کے باعث احتیاط ضروری ہے۔ ساتھ ہی ۱۸؍ اپریل سے مکہ میں داخلے کے لیے سخت شرائط نافذ کی جا رہی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سعودی عرب میں قائم امریکی سفارتخانہ نے منگل کو ایک اہم سفری ہدایت جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر اس سال حج کی ادائیگی کے اپنے منصوبوں پر دوبارہ غور کریں۔ سفارتخانے نے اپنی جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا کہ ’’سعودی عرب ٹریول ایڈوائزری کے مطابق، اور سیکوریٹی کی جاری صورتحال اور وقفے وقفے سے سفری رکاوٹوں کی وجہ سے، ہم اس سال حج میں شرکت پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘ سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’۱۸؍  اپریل سے، مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کو حج کا اجازت نامہ، مکہ سے جاری کردہ رہائشی شناخت، یا ایک درست مکہ ورک پرمٹ دکھانا ہوگا۔ دیگر ویزا رکھنے والوں کو ۱۸؍  اپریل سے پہلے مکہ سے روانہ ہونا چاہیے۔‘‘ ان ہدایات کا مقصد حج کے دوران سیکوریٹی اور انتظامی امور کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد میں جمعہ کوامریکہ کے ساتھ ایران مذاکرات کا آغاز کرے گا

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں افراد مکہ کا رخ کرتے ہیں، تاہم اس سال جاری سیکوریٹی خدشات کے باعث صورتحال غیر معمولی دکھائی دے رہی ہے۔ سفارتخانے نے اپنے بیان میں امریکی شہریوں کو عمومی طور پر سعودی عرب کے سفر پر بھی نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے پس منظر میں سامنے آئی ہے جب ۲۸؍ فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ اس کے جواب میں تہران نے مختلف علاقوں میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کیں، جن میں اردن، عراق اور خلیجی ممالک کے بعض حصے شامل بتائے گئے ہیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں نہ صرف خطے کی سیکوریٹی صورتحال متاثر ہوئی بلکہ عالمی ہوابازی اور معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق بعض بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا اور فضائی سفر میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے باعث بین الاقوامی مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: ’عقلِ سلیم کی جیت ہوئی‘: عالمی لیڈران نے ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا

سعودی حکام کی جانب سے حج کے انتظامات کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سیکوریٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔ اس تناظر میں مختلف ممالک اپنے شہریوں کے لیے الگ الگ سفری ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ تاحال سعودی حکومت کی جانب سے حج کی منسوخی یا محدود کرنے سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر مختلف سفارتی ذرائع احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK