اقوام متحدہ کی فلسطین کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر عائد پابندی پر امریکی عدالت نےروک لگا دی، البانیز نےعدالتی فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کی فتح قرار دیا۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 10:12 PM IST | Washington
اقوام متحدہ کی فلسطین کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر عائد پابندی پر امریکی عدالت نےروک لگا دی، البانیز نےعدالتی فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کی فتح قرار دیا۔
اقوام متحدہ کی فلسطین کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر عائد پابندی پر امریکی عدالت نےروک لگا دی، البانیز نےعدالتی فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کی فتح قرار دیا۔البانیز نے سوشل میڈیا پر عدالتی فیصلہ شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’بریکنگ! امریکی عدالت نے میرے خلاف امریکی پابندیاں معطل کر دی ہیں! جیسا کہ جج نے کہاآزادیِ اظہار کا تحفظ ہمیشہ عوامی مفاد میں ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر آواز بلند کرنے والے فنکار ’’بلیک لسٹ‘‘، پال لاورٹی کی ہالی ووڈ پر تنقید
واضح رہے کہ البانیز غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر کھل کر تنقید کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔گزشتہ سال امریکہ نے یہ کہتے ہوئے ان پر یہ پابندیاں عائد کی تھیں، کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے پر اکسا رہی ہیں۔جبکہ اس وقت سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ وہ عہدیداروں، کمپنیوں اور ایگزیکٹوز کے خلاف کارروائی کے لیے ان کی غیر قانونی اور شرمناک کوششوں پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ بعد ازاں البانیز پر دونوں ممالک کے خلاف سیاسی اور معاشی جنگ کی مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے روبیو نے کہا تھا کہ ’’اب ان اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘
یاد رہے کہ یہ پابندیاں البانیز کی ایک رپورٹ کے بعد لگائی گئی تھیں، جس میں ان کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو مبینہ طور پر فلسطینی سرزمینوں پر اسرائیلی قبضے میں معاونت کر رہی ہیں۔ان کمپنیوں میں مائیکروسافٹ، الفابیٹ، ایمیزون اور پالانٹیر شامل تھیں، جو فوجی ہارڈویئر، نگرانی کی ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر فراہم کرتی ہیں۔اس کے علاوہ البانیز نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور ان مظالم سے دنیا کوباخبر کرایا، جسے اسرائیل اور امریکہ نے دنیا سے چھپایا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے متعدد اجلاس میںاسرائیلی مظالم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔