Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کی دھمکی پر تشویش: امریکی خفیہ محکمہ

Updated: June 07, 2026, 7:06 PM IST | Washington

امریکی خفیہ محکمہ نے اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کی دھمکی پر تشویش کا اظہار کیا ہے،خاص طور پر جب واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے،جبکہ کچھ عہدیدار نے اسرائیل کی اس حرکت کو ’’ حد سے تجاوز ‘‘قرار دیا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکی خفیہ رپورٹس میں اسرائیل کی طرف سے بڑھتی ہوئی جاسوسی کی دھمکی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر جب واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ خبروں کے مطابق، اسرائیل نے سینئر امریکی عہدیداروں کی نگرانی تیز کر دی ہے، جن میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے چیفمذاکرات کار اسٹیو وِٹکوف، پینٹاگون کے پالیسی چیف ایل برج اے کولبی اور ان کے نائب مائیکل پی ڈی مینو چہارم شامل ہیں۔اگرچہ امریکہ اور اسرائیل ایک دوسرے کی جاسوسی کو عرصہ دراز سے برداشت کرتے آئے ہیں، لیکن اب کچھ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات میں امریکی موقف سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے اسرائیلی اقدامات نے ’’حد پار‘‘کر دی ہے۔ بعد ازاں ایک علاحدہ ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی رپورٹ نے اسرائیل کے انسدادِ جاسوسی خطرے کی سطح کو ’’اعلیٰ‘‘ سے ’’نازک‘‘ کر دیا ہے، جس میں امریکی فوجی اہلکاروں اور سرکاری عہدیداروں کی جاسوسی کی کوششوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین: غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی، بین گوئیر پر پابندی زیرغور

واضح رہے کہ ان خدشات کا اظہار ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک ایران کے خلاف جنگ میں بے مثال فوجی تعاون کر رہے ہیں۔ امریکی اہلکاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کی مذاکراتی حکمت عملی اور ایران مذاکرات کے دوران تبدیل ہوتے امریکی موقف کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنا چاہتا ہے۔امریکی دفاعی اہلکاروں کو اسرائیل میں ایسے واقعات کا سامنا ہوا، جہاں ان کے فون پر خفیہ سافٹ ویئر نصب پایا گیا، جو مبینہ طور پر مواصلات کو روکنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اگرچہ پینٹاگون نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ان دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا، اور اسرائیل نے امریکی عہدیداروں یا اداروں کی جاسوسی سے انکار کیا۔ دریں اثناء موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیل طویل عرصے سے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کے خلاف جارحانہ جاسوسی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ لیکن اب امریکہ کیلئے اسرائیل کسی بھی دوسرے امریکی اتحادی اور یہاں تک کہ بعض مخالف ممالک سے زیادہ انسدادِ جاسوسی کا خطرہ بن چکا ہے۔ جبکہ ایک سینئر عہدیدار نے ٹرمپ کی انتظامیہ میں اسرائیلی جاسوسی کی کوششوں کو ’’بے لگام‘‘قرار دیا۔امریکی فوجی اہلکار، جو اسرائیل میں یا اس کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان خطرات سے باخبر ہیں اور مواصلات اور الیکٹرانک آلات کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی پروٹوکول کی پیروی کررہے ہیں۔ جبکہ قریبی تعاون کے باوجود، دونوں ممالک اپنی انتہائی حساس معلومات کی حفاظت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK