Updated: June 29, 2026, 4:06 PM IST
| California
امریکہ میں مقیم ۱۶؍ ماہ کی ہندوستانی نژاد بچی آریہ شرما امریکہ کے تمام ۶۳؍ نیشنل پارکس کا دورہ کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بننے کے مشن پر ہے۔ اپنے والدین اکشے شرما اور اپراجیتا رائے کے ساتھ وہ اب تک ۳۴؍ نیشنل پارکس دیکھ چکی ہے جبکہ خاندان آئندہ دو برس میں باقی پارکس بھی مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ والدین نے بتایا کہ وہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور ان کا مقصد صرف ریکارڈ قائم کرنا نہیں بلکہ بچوں کو فطرت سے جوڑنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔
آریہ شرما۔ تصویر: سوشل میڈیا
امریکہ، جو دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، اپنی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کے باعث بھی شہرت رکھتا ہے۔ ملک کے ۶۳؍ قومی پارکس دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں اور قدرتی مناظر سے محبت کرنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں، تاہم اب ایک ۱۶؍ ماہ کی ہندوستانی نژاد بچی ان تمام پارکس کا دورہ کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ الینوائے کے شہر شومبرگ میں رہنے والی آریہ شرما اپنے والدین، اکشے شرما اور اپراجیتا رائے، کے ساتھ امریکہ کے تمام ۶۳؍ نیشنل پارکس کی سیر کے مشن پر ہے۔ اب تک وہ ۳۴؍ پارکس کا دورہ کر چکی ہے، جبکہ خاندان کا منصوبہ ہے کہ آئندہ دو برس کے دوران باقی تمام پارکس بھی مکمل کر لیے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر میں اپنا ووٹ کھویا اب پاسپورٹ سے بھی محروم ہوں‘‘
آریہ کے والدین، جو سوشل میڈیا پر eternalvoyager1001 کے نام سے اپنے سفری تجربات شیئر کرتے ہیں، نے بتایا کہ ابتدا میں ان کا مقصد صرف اپنی بیٹی کو فطرت سے روشناس کرانا تھا، لیکن ۱۵؍ نیشنل پارکس دیکھنے کے بعد ایک پارک رینجر نے انہیں گنیز ورلڈ ریکارڈ کی کوشش کرنے کا مشورہ دیا۔ اکشے شرما نے کہا کہ ’’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سفر کسی ریکارڈ کی شکل اختیار کرے گا۔ ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ آریہ کو بچپن ہی سے قدرتی ماحول سے جوڑا جائے، لیکن جب رینجر نے یہ تجویز دی تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ کوشش کی جائے۔‘‘ آریہ کی والدہ اپراجیتا رائے کے مطابق ان کی بیٹی کو قدرتی ماحول بے حد پسند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوسیمائٹ نیشنل پارک میں ایک آبشار کے سامنے بیٹھ کر آریہ کافی دیر تک خاموشی سے اس منظر کو دیکھتی رہی اور مکمل طور پر اس لمحے میں کھو گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ وہ مختلف قدرتی مناظر کو سمجھے اور یہ احساس پیدا ہو کہ یہ ایسے قدرتی خزانے ہیں جنہیں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔‘‘ والدین کے مطابق چھوٹے بچے کے ساتھ اس نوعیت کا سفر آسان نہیں ہوتا اور ہر منصوبے میں لچک رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اپراجیتا رائے نے کہا کہ ’’اگر بچہ خود لطف اندوز نہ ہو تو پھر پورا سفر مشکل بن جاتا ہے۔ اس لیے بہت زیادہ منصوبہ بندی اور حالات کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش واپسی کا اعلان
خاندان اس ہفتے کے آخر میں الاسکا جانے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے، جہاں وہ مزید کئی نیشنل پارکس کا دورہ کرے گا۔ دونوں والدین سافٹ ویئر پروفیشنل ہیں اور اکثر مختصر تعطیلات یا ویک اینڈ پر اپنے سفری منصوبے ترتیب دیتے ہیں۔ آریہ کے والدین نے بتایا کہ وہ پہلے ہی گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاہم اس ریکارڈ کی منظوری کے لیے قواعد و ضوابط اور تصدیقی عمل کافی تفصیلی اور سخت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈ قائم کرنا ان کا واحد مقصد نہیں بلکہ وہ دوسرے والدین کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بچوں کو کم عمری ہی سے فطرت کے قریب لایا جا سکتا ہے۔
اکشے شرما نے کہا کہ ’’پانچ یا دس سال بعد جب آریہ بڑی ہوگی تو وہ دیکھے گی کہ اس کے خاندان نے مل کر کیا حاصل کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسے یہ یقین ہو کہ دنیا میں کوئی بھی مقصد ناممکن نہیں ہوتا۔‘‘