امریکی خفیہ ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای موثر طور پر جنگی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں،حملے میں زخمی ہونے کے باوجود وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 9:09 PM IST | Washington
امریکی خفیہ ادارے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای موثر طور پر جنگی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں،حملے میں زخمی ہونے کے باوجود وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، امریکی خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کے دوران زخمی ہونے کے باوجود عوام کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے ایران کی جنگی حکمت عملی اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔امریکی خفیہ جائزوں سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ خامنہ ای اس وقت ایرانی قیادت کے نظام میں کتنا اختیار استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر اس جنگ میں متعدد سینئر اہلکاروں بشمول ان کے والد کی ہلاکت کے بعد۔دریں اثناء امریکی حکام کا ماننا ہے کہ خامنہ ای نے جلنے اور چھروں کے زخموں سے صحت یابی کے دوران بھروسہ مند قاصدوں اور ذاتی رابطوں کے ذریعے بات چیت جاری رکھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات
دوسری جانب ایرانی حکام نے اصرار کیا ہے کہ وہ اچھی طرح صحت یاب ہو رہے ہیں۔ سپریم لیڈر کے دفتر کے پروٹوکول کے سربراہ مظاہر حسینی نے جمعہ کو بتایا کہ خامنہ ای کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور انہوں نے ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی خفیہ جائزوں نے پایا کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو امریکی حملوں سے کمزور کیا گیا ہے لیکن ختم نہیں کیا جا سکا،اور بہت سے میزائل لانچر اب بھی فعال ہیں۔ مزید بتایا گیا کہپاسداران انقلاب (IRGC) کے سینئر رکن اور اسپیکر محمد باقر قالیباف ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ سفارتی کوششوں کے دوران زیادہ تر روزمرہ کے حکومتی امور سنبھال رہے ہیں۔