Inquilab Logo Happiest Places to Work

خام تیل کا درآمدی بل پھر ۶۰؍ فیصد بڑھ گیا

Updated: July 22, 2026, 11:17 AM IST | New Delhi

الہ آباد سے سون بھدر تک۳۳۰؍کلومیٹر اور ۱۱۷؍ کلومیٹر طویل وندھیا-پوروانچل لنک ایکسپریس وے کی تعمیر کا راستہ صاف۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر: آئی این این

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہندوستان کا خام تیل درآمد کرنے کا بل پھر تیزی سے بڑھنے لگا ہے، جس سے اس بحران کی اقتصادی قیمت واضح ہو رہی ہے۔پیٹرولیم وزارت کی جانب سے پیر کو جاری سہ ماہی اعداد و شمار کے مطابق جون تک کے تین ماہ کے دوران خام تیل کی درآمد پر آنے والی لاگت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً۶۰؍ فیصد بڑھ گئی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ملک کے درآمدی حجم میں معمولی کمی آئی لیکن عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے نے اس کمی کا اثر ختم کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ریستوراں زبردستی سروس چارج وصول نہیں کر سکتے، ۴۱؍ کے خلاف کارروائی

یہ صورتحال ایسے ملک کیلئےتشویشناک ہے جو اپنی ضرورت کا تقریباً۸۸؍ فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں حکومتی مالیات پر دباؤ ڈال رہی ہیں، تجارتی خسارہ بڑھا رہی ہیں اور مہنگائی کو دوبارہ ہوا دے رہی ہیں، جبکہ پالیسی سازوں کو امید تھی کہ قیمتوں پر قابو پایا جا چکا ہے۔امریکی افواج نے ایران کے مختلف اہداف پر مسلسل ۹؍ راتوں سے حملے کئےہیں، جن میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری تنصیبات اور میزائل ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔

ہندوستان کیلئےیہ معاملہ  اسلئے اہم ہےکہ اس کی تقریباً ۴۰؍ فیصد خام تیل کی درآمدات، ۶۰؍ فیصد ایل این جی کی سپلائی اور۹۰؍ فیصد ایل پی جی کی درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اتھنال کوباورچی خانہ تک پہنچانے کی تیاری، رِٹیل میں ملے گا

ستمبر تک کے تیل کی سپلائی موجود

تنازع کےبڑھنے کا خطرہ ہے لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان کو فوری طورپر تیل کی قلت کا سامنا نہیں ہے۔توانائی کے تجزیاتی ادارے کلیپر  کے لیڈ ریسرچ اینالسٹ سمیت ریتولیا کے مطابق  ہندوستان کے پاس کم از کم ستمبر کے وسط تک خام تیل کی مناسب سپلائی موجود رہے گی کیونکہ اس نے اپنی درآمدات کے ذرائع متنوع بنا لیے ہیں اور اب روس، وینزویلا اور مغربی افریقہ سے بھی خام تیل حاصل کر رہا ہے۔ 

عالمی توانائی منڈی بےیقینی کا شکار

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں اور تیل کی سپلائی میں بڑی رکاوٹوں کے خدشات دوبارہ جنم لے رہے ہیں۔ ان خدشات کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا میں تجارت ہونے والے ہر پانچ میں سے ایک بیرل تیل کی گزرگاہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK