Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ اسرائیل ایران جنگ: حملے جاری، عالمی ردعمل اور بڑھتا ہوا بحران

Updated: March 06, 2026, 8:10 PM IST | Tehran

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ تازہ بیانات، فوجی کارروائیاں اور عالمی ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازعہ مزید وسیع اور طویل ہو سکتا ہے۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ تازہ بیانات، فوجی کارروائیاں اور عالمی ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازعہ مزید وسیع اور طویل ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کا بیان: ایران کے اگلے لیڈر کے انتخاب میں امریکہ کی شمولیت
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ واشنگٹن کو ایران کی آئندہ قیادت کے انتخاب میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ایران کے ساتھ اس شخص کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہمیں اس شخص کا انتخاب کرنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے ایران کے ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایسے لیڈر کو قبول نہیں کرے گا جو سابق پالیسیوں کو جاری رکھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ میں پھنسے ٹرمپ کی مشکلات بڑھنے والی ہیں

فرانس کی محدود حمایت: امریکی طیاروں کو بیس استعمال کرنے کی اجازت
فرانسیسی حکومت نے اعلان کیا کہ امریکی فوجی امدادی طیاروں کو فرانسیسی فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اس شرط کے ساتھ کہ وہ ایران کے خلاف حملوں میں براہ راست شامل نہ ہوں۔ فرانسیسی وزیر دفاع نے کہا کہ ’’ایندھن بھرنے والا طیارہ ایک سروس اسٹیشن ہے، یہ لڑاکا طیارہ نہیں ہے۔‘‘ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے اس سے قبل ایران پر ہونے والی کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون سے ہٹ کر قرار دیا تھا۔

ایران کا موقف: ممکنہ امریکی زمینی حملے کا مقابلہ کریں گے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکی زمینی حملے سے خوفزدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’نہیں، ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں… کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہم ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا اور گزشتہ تنازع میں بھی اسرائیل نے ہی جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ ایران میں زمینی کارروائی وقت کا ضیاع ہے۔

یوکرین کی شمولیت: ڈرون دفاع میں مدد
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے شاہد ڈرون کے خلاف دفاعی مدد طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں امریکہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں شاہد ڈرون کے خلاف تحفظ کے لیے مخصوص حمایت کی درخواست موصول ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ یوکرین اپنے ماہرین بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

جنگ کی ممکنہ طوالت: ستمبر تک جاری رہنے کے خدشات
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون اس جنگ کو کم از کم ۱۰۰؍  دن تک جاری رہنے کے امکان کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ کے اخراجات ابتدائی دنوں میں ۵؍ ارب ڈالر، اور مجموعی طور پر ۱۰۰؍ سے ۱۸۰؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی دوران بعض مبصرین نے فرانسیسی نجومی نوسٹرا ڈیمس کی سات ماہ کیجنگ کی پیشگوئی کا بھی حوالہ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ

انٹرنیٹ بلیک آؤٹ: ایران میں اطلاعات کی کمی
جنگ کے دوران ایران میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ بندش رپورٹ کی گئی۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک معمول کے صرف ایک فیصد تک رہ گیا۔ ایک شہری نے کہا ہے کہ ’’اگر انٹرنیٹ نہیں ہے تو ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ چند گلیوں کے فاصلے پر کیا ہو رہا ہے، اس کا بھی نہیں۔‘‘ 

خامنہ ای کے اکاؤنٹ سے خفیہ پیغام
ایران کے سپریم لیڈر علی امنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک پیغام پوسٹ ہوا۔ پیغام میں لکھا تھا ’’خرم شہر کے لمحات افق پر ہیں۔‘‘ یہ پیغام ایران کے درمیانی فاصلے کے میزائل خرم شہر کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

خر م شہر میزائل اور اسرائیل پر حملے
ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ خرم شہر میزائل اسرائیل کے اہم اہداف کی طرف داغے گئے۔ بیان کے مطابق حملے میں نشانہ بنائے گئے مقامات میں شامل تھے، تل ابیب، بن گوریون ہوائی اڈہ اور اسرائیلی فضائیہ کا ایک اڈہ۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی بحران
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمدورفت میں ۹۰؍ فیصد تک کمی آ گئی۔ بڑی شپنگ کمپنیوں نے خلیجی راستوں کو معطل کر دیا۔ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کو افریقہ کے جنوبی سرے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے منتقل کیا جا رہا ہے۔

توانائی کی سپلائی پر اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً ۲۰؍ ملین بیرل تیل گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس راستے پر انحصار کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں، چین، ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا۔ 

جنگ کے آغاز کے بعد وسیع فوجی حملے
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جن میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

ابتدائی ۳۶؍ گھنٹوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال
رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی ۳۶؍ گھنٹوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ۳؍ ہزار سے زیادہ ہتھیار اور دفاعی میزائل استعمال کیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیمانے کی جنگ مغربی دفاعی سپلائی چین پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK