Updated: June 27, 2026, 9:01 PM IST
| New York
نیویارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی ضلعی عدالت کے جج نکولس گارافس نے گوتم اڈانی کے وکلاء کی جانب سے کیس خارج کرنے کی دائر کردہ درخواست پر فوری فیصلہ دینے سے انکار کر دیا اور استغاثہ کو اپنے فیصلے کی تائید میں اضافی معلومات جمع کرانے کیلئے ۱۳ جولائی تک کا وقت دیا ہے۔ الزامات کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کیلئے جج گارافس کی منظوری اب بھی لازمی ہے۔
رائٹرز (Reuters) نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ ایک امریکی جج نے محکمۂ انصاف کو ہندوستان کے اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کے خلاف دھوکہ دہی کے الزامات ختم کرنے کے فیصلے کا جواز پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیویارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی ضلعی عدالت کے جج نکولس گارافس نے گوتم اڈانی کے وکلاء کی جانب سے کیس خارج کرنے کی دائر کردہ درخواست پر فوری فیصلہ دینے سے انکار کر دیا اور استغاثہ کو اپنے فیصلے کی تائید میں اضافی معلومات جمع کرانے کیلئے ۱۳ جولائی تک کا وقت دیا ہے۔ جج گارافس نے کہا کہ ”حکومت کا یہ مختصر، سادہ اور حتمی بیان عدالت کو کسی نتیجے پر پہنچنے کیلئے کافی بنیاد فراہم نہیں کرتا اور نہ ہی کیس خارج کرنے کی حکومتی درخواست کا کوئی تجزیہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔“
یاد رہے کہ ۱۸ مئی کو ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت سے گوتم اڈانی کے خلاف دھوکہ دہی کے الزامات خارج کرنے کی درخواست دائر کرکے جج گارافس کو بتایا تھا کہ اس نے اپنے استغاثہ کے صوابدیدی اختیار کے تحت، انفرادی مدعا علیہان کے خلاف ان فوجداری الزامات پر مزید وسائل صرف نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الزامات کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کیلئے جج گارافس کی منظوری اب بھی لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر ہندوستان کی خاموشی اخلاقی اور عقلی طور ناقابل جواز ہے: سونیا گاندھی
کیس خارج کرنے کی یہ درخواست ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی تھی جن کے مطابق اڈانی کے وکلاء نے محکمۂ انصاف کو بتایا تھا کہ اگر الزامات ختم کر دیئے گئے تو وہ امریکی معیشت میں ۱۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے اور ۱۵ ہزار ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کریں گے۔ دو ڈیموکریٹک سینیٹرز نے الزام لگایا ہے کہ یہ پیشکش ایک ”سنگین اور ناجائز لین دین کی پیشکش“ کے مترادف تھی۔
الگ سے، امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے ۱۴ مئی کو گوتم اڈانی کے ساتھ ایک تصفیہ کیا تھا، جس کے تحت انہوں نے ۶ ملین ڈالر اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی نے ۱۲ ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس معاہدے میں اڈانی کیلئے سول شکایت میں عائد کردہ الزامات کو تسلیم کرنے یا ان کی تردید کرنے جیسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کے دور اقتدار میں آئی سی ای کی حراست میں اموات میں ۱۴۰؍فیصد اضافہ
مزید برآں، ۱۸ مئی کو امریکی محکمۂ خزانہ نے کہا کہ اڈانی گروپ کی فلیگ شپ کمپنی اڈانی انٹرپرائزز نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ممکنہ سول ذمہ داری کو نبٹانے کیلئے ۲۷۵ ملین ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔