Updated: August 08, 2026, 10:05 PM IST
| Washington
ارجنٹائنا کے عظیم فٹبالر ڈیاگو میراڈونا نے ۱۹۸۶ء کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف جس گیند سے متنازع ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول کیا تھا، وہ امریکہ میں نیلامی کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ ٹیکساس میں قائم ہیریٹیج آکشنز کے مطابق یہ گیند ۲۱؍ سے ۲۳؍ اگست ۲۰۲۶ء تک نیلام ہوگی اور اس کی ابتدائی بولی ۵ء۲؍ ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔
فٹبال کی تاریخ کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی اشیا میں شامل ڈیاگو میراڈونا کی وہ گیند جس سے انہوں نے ۱۹۸۶ء کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول کیا تھا، ایک بار پھر نیلامی کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ ٹیکساس میں قائم ہیریٹیج آکشنز اسے ۲۱؍ سے ۲۳؍ اگست ۲۰۲۶ء کی اسپورٹس نیلامی میں شامل کرے گا۔نیلام گھر نے گیند کے لیے ابتدائی بولی ۵ء۲؍ ملین ڈالر مقرر کی ہے اور اس کی حتمی قیمت ۱۰؍ ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ ہیریٹیج آکشنز کے نائب صدر ڈین ایملر نے اسے فٹبال کی دنیا کی ’’سب سے تاریخی گیند‘‘ قرار دیا۔
یہ وہی گیند ہے جو ۲۲؍ جون ۱۹۸۶ء کو میکسیکو سٹی کے Estadio Azteca میں ارجنٹائنا اور انگلینڈ کے درمیان ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں استعمال ہوئی تھی۔ میراڈونا نے دوسرے ہاف میں انگلینڈ کے گول کیپر پیٹر شلٹن کے مقابلے میں اپنے ہاتھ سے گیند کو جال میں پہنچایا، لیکن ریفری علی بن ناصر نے ہینڈ بال نہیں دیکھا اور گول منظور ہوگیا۔ ارجنٹائنا نے میچ 2-1 سے جیتا۔ میراڈونا نے میچ کے بعد اس گول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا: ’’تھوڑا میراڈونا کے سر سے اور تھوڑا خدا کے ہاتھ سے۔‘‘ اسی بیان کے باعث یہ گول ’ہینڈ آف گاڈ‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: اشفاق نے ۴۰۰؍ میٹر دوڑ میں قومی ریکارڈ توڑ کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی
اسی گیند کی تاریخی اہمیت صرف پہلے گول تک محدود نہیں۔ میراڈونا نے اسی مقابلے میں اپنا دوسرا گول بھی اسی گیند سے کیا تھا، جسے بعد میں ’گول آف دی سنچری‘ کہا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے انگلینڈ کے متعدد دفاعی کھلاڑیوں کو ڈرِبل کرتے ہوئے گول کیا تھا۔ ایملر نے کہا: ’’دونوں گول انتہائی مشہور اور یادگار ہیں۔‘‘ میچ کے بعد گیند تیونس کے ریفری علی بن ناصر کے پاس رہی اور کئی دہائیوں تک ان کی ملکیت میں رہی۔ اسے اس سے قبل ۲۰۲۲ء میں لندن میں نیلام کیا گیا تھا، جہاں یہ تقریباً ۳۷ء۲؍ ملین ڈالر میں فروخت ہوئی۔ موجودہ فروخت کے لیے گیند کی شناخت کی تصدیق بھی کی گئی ہے اور اسے دونوں تاریخی گولوں سے فوٹو میچ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوگنڈا کے فٹبال کپتان اسٹریٹ گینگ کے حملے میں ہلاک
میراڈونا کی اسی میچ میں پہنی ہوئی ارجنٹائنا کی جرسی بھی ۲۰۲۲ء میں ۳ء۹؍ ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی اور وہ اب تک سب سے مہنگی فٹبال جرسی کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ نئی نیلامی میں گیند کی متوقع ۱۰؍ ملین ڈالر قیمت اس ریکارڈ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۸۶ء کا ارجنٹائنا انگلینڈ میچ کھیل کے علاوہ سیاسی پس منظر بھی رکھتا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان فاک لینڈ جزائر کی خودمختاری کا تنازع موجود تھا اور اس تاریخی کشیدگی نے میچ کی اہمیت مزید بڑھا دی تھی۔ ارجنٹائنا نے اس کامیابی کے بعد سیمی فائنل اور فائنل جیت کر ورلڈ کپ بھی اپنے نام کیا۔