Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی بازار تک رسائی برقرار رکھنے کیلئے کپڑا صنعت بیرون ملک منتقل ہو سکتی ہے

Updated: August 28, 2025, 2:01 PM IST | New Delhi

امریکی بازار تک رسائی برقرار رکھنے کیلئے کپڑے کی صنعت بیرون ملک منتقل ہو سکتی ہے، اس اقدام کا مقصد بدھ سے نافذ ہونے والے اضافی۵۰؍ فیصد امریکی ٹیرف کے اثرات کو زائل کرنا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان کی کپڑا صنعت امریکی بازار تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے حتمی مرحلے کی پیداوار کو بنگلہ دیش، سری لنکا، ایتھوپیا، مصر، انڈونیشیا اور اردن جیسے ممالک میں منتقل کرنے سمیت مختلف متبادل پر غور کررہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بدھ کے روز نافذ ہونے والے اضافی ۲۵؍ فیصد امریکی محصولات کے اثرات کو زائل کرنا ہے۔اس صنعت نے پہلے ہی امریکہ کے لیے سرمائی آرڈر کو مؤخر کردیا ہے اور اب بہار کے آرڈر پر کام جاری ہے جن پر امریکی برانڈز کے ساتھ معاہدے پہلے ہی ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پرھئے: یوکرین جنگ ’مودی کی جنگ‘، ہندوستان روس سے تیل کی خریداری بند کرے: امریکہ

سی ٹی اے اپیرل کے چیئرمین مکیش کنسال کا کہنا تھا کہ محصولات کے نفاذ کے بعد کچھ خریدار۵؍ فیصد سے ۲۰؍ فیصد تک اضافی رعایت کے طلبگار ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب آئندہ سال کے گرمیوں کے آرڈرز کے لیے مذاکرات ہوتے ہیں اور بات چیت شروع ہو چکی ہے۔ ٹرائی برگ کنسلٹنگ کے ٹیم لیڈر سنجے شکلا نے کہا کہ ’’خریداروں نے بھی صورتحال کی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے۔ سوت، کپڑے اور یہاں تک کہ ٹرِمز اور ریٹیلرز کے سپلائرز سے لے کر پوری ویلیو چین کو محصولات میں اضافے کے اثرات کو جذب کرنا پڑے گا۔‘‘کنسال کے مطابق ہندوستان سے برآمد ہونے والی مصنوعات  امریکی دکانوں میں لاگت سے۳؍ سے ۶؍ گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہے اور ریٹیل قیمت میں محض۱۰؍ فیصد اضافہ بھی محصولات کے اثرات کو جذب کرنے کے لیے کافی ہے۔شکلا کے مطابق ڈریس شرٹس جیسی مصنوعات کو ایتھوپیا منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ ڈینم، نِٹ ویئر اور وووین مصنوعات کو اردن میں پروسیس کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے بندرگاہ اور ٹرانزٹ پابندیوں کے بعد بنگلہ دیش کے ساتھ لوجسٹک مسائل موجود ہیں، لیکن برآمد کنندگان چین اور دیگر ممالک سے جو کچھ کپڑا حاصل کرتے ہیں اسے براہ راست بنگلہ دیش لے جایا جا سکتا ہے اور وہاں سے برآمد کیا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے۵۰؍فیصد ٹیرف سے کون سے شعبے متاثر ہوں گے

شکلا نے کہا کہ کچھ پروسیسنگ ہندوستانی کمپنیوں کے ان خطوں میں قائم اکائیوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے، جبکہ کچھ کے لیے شراکت داروں کی سہولیات استعمال کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بہت سے معاملات کو یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور برانڈز کو امید ہے کہ حالات معمول پر آ جائیں گے۔ اگرچہ پیچیدہ سورسنگ پر بات چیت کرنے والی ہندوستانی کمپنیاں امریکی مارکیٹ برقرار رکھ سکتی ہیں، لیکن چھوٹے کھلاڑی اور سپلائر ہی سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اگر امریکہ کے ساتھ محصولات پر تنازعہ حل نہیں ہوتا ہے تو ملازمتوں کے جانے کا خدشہ ہے۔ 
ہندوستان کی برآمدات کے لیے راستہ بن سکنے والے ممالک میں ہندوستان کے مقابلے میں کہیں کم محصولات ہیں۔ بنگلہ دیش میں۲۰؍ فیصد، انڈونیشیا میں ۱۹ ؍فیصد اور سری لنکا میں۳۰؍ فیصد محصولات ہیں۔ دیگر خطوں کے ممالک میں صرف ۱۰؍ فیصد بنیادی محصول ادا کرنا ہوتا ہے۔ایپرل ایکسپورٹ پروموشن کونسل کے سیکرٹری جنرل متھلیشور ٹھاکر کے مطابق پیچیدہ سپلائی چین کے انتظام کے علاوہ، برآمد کنندہ کو بہت کم مارجن کے ساتھ بھی کام کرنا پڑے گا۔ اگر وہ آرڈر قبول نہیں کرتے ہیں تو انہیں اپنے عملے کو تنخواہیں بھی دینی ہوں گی اور نقصان اٹھانا پڑے گا، یا پھر وہ آرڈر قبول کرتے ہیں اور اس امید پر کام جاری رکھتے ہیں کہ اگلے دو سے تین ماہ میں معاملات حل ہو جائیں گے۔ ملازمتوں کے جانے کے خطرے کے بارے میں، کنسال نے کہا کہ درحقیقت بہت سے برآمداتی کلسٹرز میں کارکنوں کی قلت ہے اور یورپ جیسے دیگربازار کے آرڈر برقرار ہیں۔صنعت اس حقیقت سے بھی اطمنان کا سانس لے  سکتی ہے کہ امریکہ کو مصنوعات کی برآمدات کا۲۰؍ سے ۴۰؍ فیصد حصہ ہندوستان سے مخصوص ہے اور دیگر سپلائر اس کی نقل نہیں کر سکتے۔ کنسال کے مطابق ان میں پیچیدہ اسٹائلنگ اور آرائش والی پوشاک بھی شامل ہیں جن کی اچھی قیمت وصول کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK