Updated: October 03, 2026, 9:53 PM IST
| Washington
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ہندمخالف، جنوبی ایشیا مخالف نفرت انتخابی بحث میں داخل ہو گئی ہے، وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو کئی عوامل متاثر کریں گے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کس طرح تارکین وطن، خاص طور پر ہندوستانی سکھ برادری اور جنوبی ایشیائی امریکی حالیہ مہینوں میں نفرت انگیز جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کا شکار ہوئے ہیں۔
امریکی انتخابی ریلی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
امریکہ میں اگلے ماہ وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کی مقبولیت کا امتحان ہوں گے۔یہ واقعات آن لائن اور مقامی امیگریشن مباحثوں سے امیدواروں کی مہم میں منتقل ہو گئے ہیں۔
ٹیکساس میں ہند مخالف بیان بازی ایک انتخابی مسئلہ
تیز رفتار آبادیاتی تبدیلی اور H-1B ویزوں پر دلائل ٹیکساس کے شہر فریسکو میں مقامی سیاسی بحث کا ایک بڑا موضوع بن گئے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ہندوستانی امریکیوں کو ہندمخالف بیان بازی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا جو مئی میں شہر کی میئر کی دوڑ میں ایک مرکزی مسئلہ بن گیا۔آن لائن بیان بازی میں ’’ہندوستانی قبضے‘‘ کے دعوے شامل تھے، جبکہ امیگریشن کے ناقدین نے H-1B کارکنوں کو نشانہ بنایا، واضح رہے کہ یہ ایک پروگرام ہے جس سے ہندوستانی پیشہ ور افراد بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم فریسکو میئر کے مقابلے نے اس مسئلے کو ایک واضح انتخابی جہت دی۔ امیدوار راڈ ولہاؤر نے جنوبی ایشیائی تارکین وطن کو ’’چوہے‘‘ کہا اور اسلام کو ’’دہشت گرد گروہ‘‘ قرار دیا۔ تاہم، وہ انتخابات جیتنے میں ناکام رہے جو مارک ہل نے۵۸؍ فیصد ووٹوں سے جیتا تھا۔
پھر ستمبر میں، ٹیکساس ریل روڈ کمشنر کے لیے ریپبلکن امیدوار بو فرنچ نے سوشل میڈیا پر یونیورسٹی آف ٹیکساس کے فٹ بال گیم کی تصاویر پوسٹ کیں جن میں بڑے پیمانے پر جنوبی ایشیائی نظر آنے والے ہجوم کو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا کہ امریکیوں کو غیر ملکیوں کے ذریعے بے گھر کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں انہوں نے تجویز کیا کہ یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کا غلبہ ہے، جبکہ اندراج کے اعداد و شمار اس کے برعکس بول رہے تھے۔ صرف۴؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد انڈرگریجویٹ بین الاقوامی طلبہ تھے، جبکہ۸۰؍ فیصد سے زیادہ ٹیکساس کے رہائشی تھے۔علاوہ ازیںفلوریڈا کے واقعے میں پام بے سٹی کونسل مین چینڈلر لینگوین اور نمائندہ راجہ کرشنامورتی شامل تھے جنہوں نے ہندمخالف بیان بازی کو ذاتی اور انتخابی بنا دیا۔جبکہ کرشنامورتی کی جانب سے ڈی ایچ ایس پوسٹ پر تنقید کے بعد، لینگوین نے براہ راست جواب دیا: ’’میں جیت گیا راجیش۔ اپنی کری لے کر گھر جاؤ۔‘‘جس پر کرشنامورتی نے جواب دیا کہ،’’ امریکہ ان کا گھر ہے، اور نہ تو کوئی سیاستدان اور نہ ہی کوئی اور یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ امریکی کون ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی انتخابی حمایت پر ٹرمپ کا واضح مؤقف سے گریز، اسرائیل کی حمایت برقرار
اس کے علاوہ۹؍ ستمبر کو، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے سوشل میڈیا پر اے آئی سے بنی ایک تصویر پوسٹ کی جس میں بھوری رنگت والے، داڑھی والے شخص کو ’’مسٹر سنگھ‘‘ کے طور پر دکھایا گیا تھا۔پوسٹ پر گرافک میں لکھا تھا، ’’میں جیت گیا راجیش۔ اپنی کری لے کر گھر جاؤ۔ امریکہ امریکیوں کے لیے،ہماری سڑکوں سے اتر جاؤ، تمہیں گاڑی چلانا نہیں آتی مسٹر سنگھ۔ خود ڈیپورٹ ہو جاؤ یا انجام بھگتو۔‘‘دراصل یہ غیر دستاویزی تارکین وطن کو رپورٹ کرنے کی ترغیب دینے والی ڈی ایچ ایس مہم کا حصہ تھا۔ سکھ کولیشن نے محکمہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا اور بعد میں تصویر کو حذف کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: فلائی دبئی طیارے کے ہائی جیکنگ خدشے پر نیتن یاہو پر انتخابی حربے کا الزام
مزید برآںڈی ایچ ایس پوسٹ کے چار دن بعد، سیکرامنٹو سے تعلق رکھنے والے۲۸؍ سالہ سکھ ٹرک ڈرائیور پر وائیومنگ میں انٹرسٹیٹ۸۰؍ پر ایک ریسٹ اسٹاپ پر حملہ کیا گیا۔ڈرائیور کو امریکہ میں وائیومنگ کے ایک ریسٹ ایریا میں۱۷؍ بار چاقو مارا گیا۔۲۸؍ سالہ نوجوان کو گردن، سینے، بازوؤں اور پسلیوں پر چوٹیں آنے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا۔تاہم مشتبہ شخص، پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے اینڈریو کرس بزداک کو گرفتار کر کے اقدام قتل کا الزام عائد کیا گیا۔