Updated: August 28, 2026, 10:02 PM IST
| Washington
امریکہ کے ۱۰۰؍ سے زائد شہروں نے مقامی افراد کے شدید احتجاج کے بعد اپنے فلیک کیمرے بند کر دیے ہیں، قانون نافذ کرنے والے افسران کی طرف سے ان نگرانی کیمراؤں کے غلط استعمال کی اطلاع اور نمبر پلیٹ ریڈرز پر عوام کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد نے بہت سی بلدیات کو فلیک کے ساتھ معاہدے ختم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکہ بھر میں ۱۰۰؍سے زیادہ شہر فلیک کیمروں کو مسترد کر رہے ہیں، کیونکہ کمپنی کے خودکار نمبر پلیٹ پڑھنے والے آلات کے وسیع نیٹ ورک کے بارے میں رازداری اور حفاظت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔فلیک، جو ہزاروں کیمروں پر مشتمل ایک ایسا نظام پیش کرتی ہے جو فوری طور پر نمبر پلیٹوں کو پہچان لیتا ہے، اپنے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے تنازعات میں گھرا ہوا ہے جو الاسکا کے علاوہ ہر ریاست میں موجود ہے۔اگرچہ ان کیمروں نے مجرموں کو پکڑنے میں مدد کی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی کے بگ برادر جیسے طرز عمل رازداری کی خلاف ورزی ہیں اور چوتھی ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے افسران کے نظام کو اپنے شراکت داروں یا سابقہ ساتھیوں کی جاسوسی کے لیے غلط استعمال کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔نتیجتاً، بہت سے امریکی فلیک سے محتاط ہو گئے ہیں اور ملک بھر میں مقامی لیڈراقدامات کر رہے ہیں۔غیر منافع بخش ادارے انسٹی ٹیوٹ فار جسٹس کی طرف سے بدھ کو جاری کردہ ایک ڈیٹابیس نے انکشاف کیا کہ امریکہ بھر میں۱۰۵؍ مقامی حکومتوں نے۲۰۲۵ء کے آغاز سے اپنے خودکار نمبر پلیٹ شناختی معاہدے منسوخ کر دیے یا ان کی تجدید نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ICE کی ریکارڈ گرفتاریاں، اکثریت کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں
حالانکہ اس میں وہ دائرہ اختیار شامل نہیں ہیں جنہوں نے فلیک کیمروں کے آپریشن کو روک دیا یا اسی طرح کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے کسی اور کمپنی کا رخ کیا۔ایریزونا کے شہر ٹیمپے نے بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے اپنے نمبر پلیٹ ریڈرز بند کر دیے اور وہ فلیک کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دے گا۔ شہر نے ایک بیان میں کہا، ’’کیمرے اب نمبر پلیٹ کا ڈیٹا اکٹھا نہیں کر رہے، اور ٹیمپے اس نظام کی جگہ کوئی اور کمپنی نہیں لائے گا۔‘‘اگرچہ اس نظام نے حکام کو جرائم حل کرنے میں مدد دی ہے، تاہم لیڈروںنے کہا کہ حالیہ غلط استعمال کی اطلاعات نے انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ ٹیمپے کے میئر کوری ووڈس نے کہا، ’’ان کیمروں نے ہمارے پولیس افسروں کو ان کا کام کرنے میں مدد فراہم کی ہے، اور ہم اس سے انکار نہیں کرتے۔ لیکن غلط استعمال کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ہمیں عوامی تحفظ اس طرح فراہم کرنا ہوگی جو ہمارے سماج کا اعتماد برقرار رکھے۔‘‘
اس کے علاوہ فینکس کے شمال میں واقع کیو کریک نے بھی بدھ کو اعلان کیا کہ اس نے فلیک کے ساتھ اپنا معاہدہ فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ایک بیان میں، ٹاؤن نے بتایا کہ ایک اہم مسئلہ یہ تھا کہ ’’کوئی بھی مقامی پالیسی یا حفاظتی اقدامات ٹاؤن کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں جا سکتے، کیونکہ فلیک کا نیٹ ورک ڈیزائن ڈیٹا کو بیرونی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اشتراک اور رسائی کی اجازت دیتا ہے۔‘‘ڈیٹابیس کے مطابق، کچھ بلدیات، جیسے میساچوسٹس کا سٹو اور جارجیا کا نیلسن، نے پولیس کی طرف سے کیمرے کے غلط استعمال کی اطلاعات کے بعد اپنے معاہدے منسوخ کر دیے۔ تاہم دوسروں نے سماج کے خدشات پر کارروائی کی۔میساچوسٹس میں گرافٹن اور ایسٹ برج واٹر پولیس ڈیپارٹمنٹس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ وسیع پیمانے پر سماج کی مخالفت کے بعد فلیک کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر رہے ہیں۔فلیک کے خلاف عدم اعتماد اس قدر بڑھ گیا کہ دونوں پارٹیوں کے سیاستدانوں نے کمپنی کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: مشہور پب جی موبائل کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال، گیمنگ کمیونٹی سوگوار
میامی ہیرالڈ کے مطابق، فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر رون ڈی سینٹس نے بدھ کو ایک غیر متعلقہ تقریب کے دوران کہا، ’’میں نہیں چاہتا کہ یہ نگرانی کی ریاست بن جائے۔ مجرموں کے پیچھے جاؤ بہت اچھا، لیکن عام فلوریڈا کے شہریوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنا، اور اس ڈیٹا کا کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، یہ بالکل مختلف معاملہ ہے۔‘‘ ڈیموکریٹک ایوان کے امیدوار وسط مدتی انتخابات سے قبل ان متنازع کیمروں کواپنی سیاسی تقریر کا حصہ بنا رہے ہیں۔ان میں اوہائیو کی ڈیموکریٹ کرسٹینا نکر بوکر، اور ٹینیسی کے۵؍ویں ضلع سے ڈیموکریٹک امیدوار چاز مولڈر پیش پیش ہیں، جنہوں نے ایک کیمروں کے حوالے سے اپنے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
فلیک، جس کا صدر دفتر اٹلانٹا، جارجیا میں ہے، قانون نافذ کرنے والے افسران کی طرف سے فلیک کیمرے کے وسیع پیمانے پر غلط استعمال کی اطلاعات کے بعد یہ کمپنی تنقید کی زد میں ہے۔اس ماہ کے شروع میں، واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ کم از کم ۵۰؍ قانون نافذ کرنے والے افسران پر فلیک کیمرے اور دیگر نگرانی کے نظاموں کو غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا یا ان پر مقدمہ چلایا گیا، جس میں خواتین کی جاسوسی کرنا بھی شامل ہے۔ بعد ازاں کمپنی، جس کے پورے امریکہ میں اندازاً ایک لاکھ ۲۰؍ ہزارکیمرے ہیں، نے اپنی مصنوعات کا دفاع کیا۔ سی ای او گیریٹ لینگلے نے نیوز ویک کو بتایا کہ’’ ان کی کمپنی کا حتمی مقصد جاسوسی کرنا نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ ہم سب محفوظ محسوس کریں۔‘‘ دریں اثناء فلیک نے اس ردعمل کے نتیجے میں اس ماہ کے شروع میں کچھ تبدیلیوں کا اعلان کیا، جس میں یہ شامل ہے کہ وہ ڈیٹا کو برقرار رکھنے کی معیاری اور تجویز کردہ مدت کو۳۰؍ دن سے گھٹا کر سات دن کر دے گی۔ یہ تبدیلیاں یکم جنوری سے نافذ ہوں گی۔