Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ، ہندوستان اور دیگر ۵۹ ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کررہا ہے

Updated: June 03, 2026, 8:11 PM IST | Washington

امریکی تجارتی نمائندے کا کہنا ہے کہ ہندوستان ان ۵۴ معیشتوں میں شامل ہے جن کے پاس جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ سامان کی درآمد پر پابندی لگانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ ان ممالک کی یہ ”غیر معقول“ ناکامی امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتی ہے یا اسے محدود کردیتی ہے۔

Modi and Trump. Photo: X
ٹرمپ اور مودی۔ تصویر: ایکس

امریکہ کے تجارتی نمائندے نے ہندوستان اور ۵۹ دیگر ممالک سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر ۵ء۱۲ فیصد تک اضافی ٹیرف لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ اقدام اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ یہ ممالک جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ سامان پر پابندی لگانے یا اس سے متعلقہ پابندیوں کو مناسب طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ تجویز ۱۲ مارچ ۲۰۲۶ء کو ’سیکشن ۳۰۱‘ کے تحت شروع کی گئی تحقیقات کے بعد سامنے آئی، جن میں ان ۶۰ معیشتوں میں جبری مشقت کے قانون اور ان کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ ۶۰ معیشتیں مشترکہ طور پر کل امریکی درآمدات کے ۹۹ فیصد سے زیادہ حصے کی نمائندہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۶ء میں۲۵ء۲؍لاکھ کروڑ روپےغیر ملکی سرمایہ کا انخلاء

امریکی تجارتی نمائندے کے مطابق، ہندوستان ان ۵۴ معیشتوں میں شامل ہے جن کے پاس جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ سامان کی درآمد پر پابندی لگانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان ممالک کی یہ ”غیر معقول“ ناکامی امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتی ہے یا اسے محدود کردیتی ہے۔ یہ نتائج ہانگ کانگ اور انڈونیشیا سمیت کئی دیگر معیشتوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

مجوزہ اقدامات کے تحت، جن ممالک نے امریکہ کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدوں کے ذریعے جبری مشقت پر مبنی درآمدی پابندیوں کو نافذ کیا ہے یا نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، انہیں قدرے کم یعنی ۱۰ فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ معیشتیں جنہوں نے ایسے اقدامات نہیں اٹھائے، انہیں امریکی مارکیٹ میں اپنی برآمدات پر ۵ء۱۲ فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے نے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کیلئے ایک الگ طریقہ کار بھی تجویز کیا ہے جس کے تحت، منتخب معیشتوں سے ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی درآمدات کی ایک محدود مقدار کم ٹیرف پر امریکہ میں داخل ہو سکتی ہے۔ یہ تجویز ابھی حتمی نہیں ہے اور کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد سے قبل اسے عوامی مشاورت کے عمل سے گزارا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال کے وزیر اعظم کے بیان پر ہنگامے کے بعد ہندوستان کا رد عمل

اس تجویز کا اعلان کرتے ہوئے، امریکی تجارتی نمائندے ایمبیسیڈر جیمی سن گریر نے کہا کہ ممالک کو جبری مشقت سے جڑے سامان کی ترسیل کو روکنے کیلئے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمارے اہم ترین تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار کردہ سامان کی درآمد کے مسئلے کو حل نہ کیا جانا، ناقابلِ قبول ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال امریکی کارکنوں کو غیر منصفانہ حالات میں مقابلہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ گریر نے کہا کہ کچھ ممالک نے یو ایس ایم سی اے (USMCA) اور دیگر تجارتی انتظامات جیسے معاہدوں کے ذریعے ابتدائی اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن اس بات کو یقینی بنانے کیلئے وسیع تر کارروائی کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی تجارت جبری مشقت کے طریقوں کی حوصلہ افزائی نہ کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK