Updated: May 28, 2026, 8:01 PM IST
| New York
امریکہ نے فلسطینی امور پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزپر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے بعد ان کی عالمی مالیاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں۔ یہ اقدام اُس عدالتی پیش رفت کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اپیل کورٹ نے سابقہ پابندی مخالف حکم کو معطل کر دیا۔
فرانسسکا البانیز۔ تصویر : آئی این این
امریکہ نے فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ماہر فرانسسکا البانیزپر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ ایک اپیل عدالت نے پہلے دیئے گئے اُس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں اس اقدام کو روک دیا گیا تھا۔ بدھ کو امریکی محکمۂ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک نوٹس سے ظاہر ہوا کہ اس نے البانیز پر دوبارہ پابندیوں کا اطلاق کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں عالمی سطح پر بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے، اور اب ان کیلئے بڑے کریڈٹ کارڈز استعمال کرنا یا بینکنگ لین دین کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی پابندیوں کے درمیان کیوبا کا ’انسانی بحران‘ کا انتباہ، عالمی مدد کی اپیل
اطالوی شہری البانیز، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے خصوصی نمائندہ (اسپیشل ریپورٹر) کی حیثیت سے، فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے رویّے پر مسلسل سخت تنقید کرتی رہی ہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ کا یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب جمعے کو ایک اپیل عدالت نے پہلے جاری کئےگئے فیصلے پر عارضی حکمِ امتناع (administrative stay) جاری کیا، تاکہ عدالت اس مقدمے کے قانونی نکات کا مزید جائزہ لے سکے۔ یہ مقدمہ البانیز کے شوہر میسیمیلیانو کیلی نے اپنے نابالغ بچے کی جانب سے دائر کیا تھا، جو امریکی شہری ہے۔
اکتوبر ۲۰۲۳ءسے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے البانیز اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات کے بارے میں سب سے نمایاں ناقدین میں شامل رہی ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ سال جولائی میں ان پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نےکھلم کھلا یہود مخالف بیانات دیئے، دہشت گردی کی حمایت کا اظہار کیا، اور امریکہ، اسرائیل اور مغرب کیلئے کھلی نفرت ظاہر کی ہے۔ ‘‘