Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوڈان میں آر ایس ایف کو بارود فراہمی پر امریکہ نے ہندوستانی کمپنی اور سی ای او پر پابندیاں عائد کیں

Updated: June 27, 2026, 10:15 PM IST | Washington

امریکی محکمۂ خزانہ نے بارود بنانے والی ہندوستانی کمپنی ’ایس بی ایل اینرجی لمیٹڈ‘ (SBL Energy Limited) اور اس کے سی ای او آلوک چودھری پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوڈان میں قائم کمپنی ’ٹارگٹ ملٹی ایکٹیویٹیز کمپنی لمیٹڈ‘ (TMAC) کو بارود اور دھماکا خیز مواد کی ۲۰۰ سے زائد کھیپ فراہم کیں۔

SBL Energy CEO Alok Chaudhary. Photo: X
ایس بی ایل اینرجی کے سی ای او آلوک چودھری۔ تصویر: ایکس

امریکی محکمۂ خزانہ نے بارود بنانے والی ہندوستانی کمپنی ’ایس بی ایل اینرجی لمیٹڈ‘ (SBL Energy Limited) اور اس کے سی ای او آلوک چودھری پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوڈان میں قائم کمپنی ’ٹارگٹ ملٹی ایکٹیویٹیز کمپنی لمیٹڈ‘ (TMAC) کو بارود اور دھماکا خیز مواد کی ۲۰۰ سے زائد کھیپ فراہم کیں، جو سوڈان کے ’ڈیفنس انڈسٹریز سسٹم‘ (DIS) کے زیرِ کنٹرول ہے۔ ٹی ایم اے سی (TMAC) ایک خریداری کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرتا ہے اور سوڈانی مسلح افواج (SAF) کے اسلحہ خانے کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹامی اسپیگٹ نے بتایا کہ ”یہ نیٹ ورکس سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسیز (RSF) دونوں کو ہتھیار، بارود اور غیر ملکی جنگجو فراہم کرتے ہیں۔ ان کی اس مدد نے اس تنازع کو طول دیا ہے جس نے دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا کیا اور دہشت گرد گروپوں کو کارروائیوں کیلئے جگہ فراہم کی ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: ہند۔ امریکہ تجارتی معاہدے پر ہے پیتل نگری کے برآمد کنندگان کی نظر

امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق، ڈی آئی ایس (DIS) ایک سوڈانی گروپ ہے جو متعدد ذیلی کمپنیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ سالانہ اندازاً دو ارب ڈالر کی آمدنی پیدا کرتا ہے جو پیچیدہ اور مبہم ذرائع سے سوڈانی مسلح افواج کے اسلحہ خانے کی مالی اعانت اور دیکھ بھال کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس کی ایک ذیلی کمپنی، ’جی آئی اے ڈی انڈسٹریل گروپ‘ (GIAD Industrial Group)، جسے ’سوڈان ماسٹر ٹیکنالوجی‘ بھی کہا جاتا ہے، بظاہر اسٹیل بنانے والی ایک تجارتی کمپنی ہے جبکہ وہ براہِ راست سوڈانی مسلح افواج کیلئے فوجی گاڑیاں، اسلحہ اور لاجسٹکس تیار کرتی ہے۔ ٹی ایم اے سی، جس کی قیادت فوجی افسران کرتے ہیں، ہندوستانی بارود سمیت غیرملکی صنعتی اجزاء کو قانونی طور پر درآمد کر رہی ہے، جس سے شہریوں پر مسلسل حملے ممکن ہوئے ہیں۔ جی آئی اے ڈی انڈسٹریل گروپ اور ڈی آئی ایس پر اس سے قبل ۲۰۱۳ء میں امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی انجینئرنگ برآمدات نے نیا ریکارڈ قائم کیا

نیٹ ورک میں شامل دیگر گروپس پر بھی پابندیاں

محکمۂ خزانہ کے ’آفس آف فارین ایسٹس کنٹرول‘ (OFAC) نے کہا کہ تازہ ترین پابندیوں میں ٹی ایم اے سی کے جنرل منیجر اور ڈی آئی ایس کے سینئر عہدیدار طارق حسین محمد مدنی کے ساتھ ساتھ سوڈان اور مصر میں قائم کئی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں ’پورٹس انجینئرنگ کمپنی‘ شامل ہے، جو سوڈانی مسلح افواج کی اتحادی اور ایک سرکاری سول انجینئرنگ فرم ہے جس پر متحدہ عرب امارات (UAE) کی فوجی وردیاں اور ترکی کے گولہ بارود کے بکس درآمد کرنے کا الزام ہے؛ اسی طرح اینریک ڈینیئل پالاسیوس کوئنٹانیلا اور جیک پیٹر ڈرمین گزمن، جو آر ایس ایف (RSF) کی اتحادی کمپنی ’ٹیلنٹ برج ایس اے‘ (Talent Bridge SA) کے ایگزیکٹوز ہیں، جو پنامہ میں قائم ایک کمپنی ہے اور مبینہ طور پر کرائے کے فوجیوں کی بھرتی کو چھپاتی ہے؛ اور فریڈی الجاندرو لوپیز اوکامپو، جو کولمبیا کے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں اور ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک سے وابستہ ہیں جو کولمبیا کے سابق فوجیوں کو آر ایس ایف میں تعینات کرتا ہے۔ ان سب کمپنیوں اور افراد پر امریکی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK