امریکی سینیٹ نے ایک دو جماعتی (بائی پارٹیزن) بل کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 8:02 PM IST | New York
امریکی سینیٹ نے ایک دو جماعتی (بائی پارٹیزن) بل کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔
امریکی سینیٹ نے ایک دو جماعتی (بائی پارٹیزن) بل کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔ اس بل میں ہندوستان اور چین کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
بل کے حامی اور امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال نے کہا کہ’’واضح الفاظ میں کہیں تو چین اور ہندوستان اصل ذمہ دار ہیں۔ یہ دونوں ممالک روس سے سب سے زیادہ تیل اور گیس خرید رہے ہیں اور اسی کے ذریعے روس کی جنگی مشین کو مالی مدد مل رہی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک متاثر نہ ہوں، بلکہ روسی توانائی کے بڑے خریداروں کو ہدف بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا نے اے ایف اے اور متعدد کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی
اس مجوزہ قانون کے تحت امریکی صدر کو دنیا کے پانچ بڑے روسی تیل اور گیس درآمد کنندگان پر ۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم یہ ٹیرف لازمی نہیں ہوگا، بلکہ اسے نافذ کرنا یا نہ کرنا صدر کے اختیار میں ہوگا۔ یہ بل روسی حکام، مالیاتی اداروں، اولیگارکس اور روس کی نام نہاد شیڈو فلیٹ (وہ جہاز جو پابندیوں سے بچ کر تیل کی ترسیل کرتے ہیں) پر مزید پابندیوں کی بھی تجویز دیتا ہے۔ ساتھ ہی ایران سے متعلق امریکی پابندیوں میں توسیع کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بل کی مجموعی حمایت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو اس میں ایران سے متعلق مزید ٹیرف کی شق بھی شامل کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاید اس کی ضرورت نہ پڑے۔
یہ بھی پڑھئے:سیامی کھیر کی فلم ’’پل بھر کے لیے‘‘ کا آئی ایف ایف ایم ۲۰۲۶ء میں ورلڈ پریمیئر
ماہرین کے مطابق اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو ہندوستان کی روس سے خام تیل کی درآمدات، دوطرفہ تجارت اور توانائی کی لاگت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم بل کو نافذ ہونے سے قبل سینیٹ کی حتمی منظوری، ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) سے منظوری اور صدر کے دستخط درکار ہوں گے۔ ہاؤس اس وقت تعطیلات پر ہے، اس لیے اس بل پر حتمی پیش رفت ستمبر سے پہلے متوقع نہیں ہے۔