سعودی عرب کے تاریخی شہر العلاء میں قدیم وقت میں اونٹ کے قافلوں کے ذریعے استعمال ہونے والے قدیم تجارتی راستوں کو اب نئی تحقیقات اور آثارِ قدیمہ سے منظرِ عام پر لایا گیا ہے، جو ماضی کی تجارت اور ثقافتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 1:13 PM IST | Riyadh
سعودی عرب کے تاریخی شہر العلاء میں قدیم وقت میں اونٹ کے قافلوں کے ذریعے استعمال ہونے والے قدیم تجارتی راستوں کو اب نئی تحقیقات اور آثارِ قدیمہ سے منظرِ عام پر لایا گیا ہے، جو ماضی کی تجارت اور ثقافتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہیں۔
سعودی عرب کے شمال مغربی صحرائی علاقے العلاء میں آثارِ قدیمہ کے محققین نے اونٹ کے قافلوں کے قدیم تجارتی راستوں کو نئے سرے سے دریافت کرکے عوام کے لیے پیش کیا ہے، جو صدیوں قبل عرب اور وسطی ایشیائی تجارت کا اہم محور تھے۔ ان راستوں نے تاریخی طور پر اس خطے کو مصر، شام، ہندوستان اور دیگر تہذیبوں کے ساتھ جوڑا تھا، جس سے نہ صرف سامان بلکہ ثقافت، خیالات اور علم کا تبادلہ بھی ہوا۔ محکمہِ ثقافت و آثارِ قدیمہ کے مطابق، یہ قدیم تجارتی راہیں اونٹ قافلوں کے لیے خاص طور پر بنائی گئی تھیں تاکہ وہ خوشبودار پودوں، مسالوں، معدنیات اور دیگر قیمتی اشیاء کو ہزاروں میل طویل مسافت پر لے جا سکیں۔ ان راستوں میں Incense Route یعنی لوبان اور مشک کی تجارت کا راستہ سب سے نمایاں رہا، جو جنوبی عرب سے مشرقِ وسطیٰ اور مصر تک پھیلا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: جعلی ’پیزا ہٹ‘ کا افتتاح، خواجہ آصف ٹرول
محکمہ نے بتایا کہ اونٹ کے قافلے اس وقت کی تجارت کا لازمی ستون تھے کیونکہ صحرائی علاقوں میں گاڑیوں یا دیگر جدید ذرائعِ نقل و حمل کا وجود نہ تھا۔ اونٹ کے قافلوں نے پانی، خوراک اور دیگر ضروری سامان لے جانے کی صلاحیت کی بنا پر خطے کی معیشت کو پروان چڑھایا، خاص طور پر العلاء کی سبز و شاداب وادی اسی روٹ کے باعث تجارتی نیٹ ورکس میں ایک مرکزی مقام حاصل کر سکی۔ تحقیقات کے مطابق العلاء صدیوں سے انسانی بستیوں اور قافلوں کے لیے ایک ضروری پڑاؤ تھا، جہاں سفر کرنے والے تاجر راستے کیلئے پانی اور کھانے کے ذخائر لے کر آگے بڑھتے تھے۔ یہ علاقے دادان، لیہان اور نباتیہ سلطنت جیسے قدیم ثقافتوں کے عروج کے دوران نمایاں تجارتی مراکز بھی رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر غور، امریکی فوجی تیاری تیز
ماہرین نے بتایا ہے کہ ان راستوں پر منگول تجارت کھیل، ثقافتی تبادلہ، اور روابط کی مثالیں موجود رہیں، جو نہ صرف عرب خطے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی اثرانداز ہوئی۔ اس تحقیق کی بدولت اب یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح العلاء نے قدیم زمانے میں غیر معمولی تجارتی، ثقافتی اور اقتصادی روابط قائم کیے، اور یہ علاقے معاشی و سماجی ترقی کے اہم مراکز بنے۔العلاء کے قدیم تجارتی راستوں کی دریافت سے نہ صرف ماضی کی تہذیبوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ موجودہ دور میں سیاحت اور ثقافتی تشہیر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دریافتیں عالمی سیاحوں کو ایک منفرد تاریخی تجربہ فراہم کریں گی اور سعودی عرب کی میراث کو محفوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف ملک گیر احتجاج
یہ راستے صدیوں پرانی تجارت کی زبانی داستانیں سناتے ہیں، جن میں صرف اشیاء کی نقل و حمل نہیں بلکہ تہذیبوں کی آمیزش، مسافروں، علمائے سفر اور تجارتی و ثقافتی خیالات کا تبادلہ بھی شامل تھا۔ تاریخی اور ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے آثارِ قدیمہ کی دریافت سے انسانی تاریخ کے راز مزید روشن ہوں گے۔