• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ’وائٹ ہاؤس بال روم‘ کی تعمیر جاری رکھنے دی

Updated: September 01, 2026, 6:04 PM IST | Washington

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک اہم قانونی کامیابی دیتے ہوئے مجوزہ وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیر جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے ۵-۴ کی اکثریت سے نچلی عدالت کے تعمیراتی کام روکنے کے حکم کو معطل کر دیا، تاہم اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر منصوبہ شروع کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس جان رابرٹس سمیت چار ججوں نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے تعمیر کو ممکنہ طور پر غیر قانونی قرار دیا۔

Donald Trump showing off the new ballroom project. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ نئے بال روم کا پروجیکٹ دکھتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک اہم قانونی کامیابی دیتے ہوئے ان کے مجوزہ وہائٹ ہاؤس بال روم اور فوجی کمپلیکس کی تعمیر کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ سپریم کورٹ نے ۵-۴ کی اکثریت سے ہنگامی حکم جاری کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے ان فیصلوں کو روک دیا، جن کے تحت بال روم کی زمینی سطح پر ہونے والی تعمیرات روک دی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس جان رابرٹس کی جانب سے ۲۱؍ اگست کو جاری کیے گئے اسی نوعیت کے ایک عارضی حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔ نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن نے اس منصوبے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر یک طرفہ طور پر اس منصوبے پر عمل درآمد کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں کیا کہ صدر کے پاس ایسا اختیار ہے یا نہیں۔ عدالت کی اکثریت نے قرار دیا کہ تاریخی تحفظ کی تنظیم غالباً یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے گی کہ اسے مقدمہ دائر کرنے کیلئے درکار قانونی حیثیت حاصل ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا، ’’آج ہم حکومت کے ایسٹ وِنگ منصوبے کی قانونی حیثیت پر فیصلہ نہیں دے رہے۔‘‘ عدالت کے مطابق حکومت کے اس مؤقف کو کامیاب ہونے کا امکان ہے کہ مذکورہ تنظیم کے پاس مقدمہ دائر کرنے کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال

چیف جسٹس رابرٹس کا اختلافی مؤقف

چیف جسٹس جان رابرٹس نے سپریم کورٹ کے تین لبرل ججوں کے ساتھ مل کر فیصلے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ بال روم کی تعمیر ’’غالباً غیر قانونی‘‘ ہے اور گزشتہ تقریباً ایک سال سے اس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ رابرٹس نے کہا کہ صدر نے وہائٹ ہاؤس کے ایسٹ وِنگ کو گرانے کا حکم دیا تاکہ اس کی جگہ نجی سرمایہ سے ایک نیا سرکاری بال روم تعمیر کیا جا سکے۔ ان کے مطابق بال روم کی تعمیر گزشتہ تقریباً ایک سال سے تیزی سے جاری ہے۔ تاریخی تحفظ کی تنظیم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس منصوبے سے وہائٹ ہاؤس کی جمالیاتی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کی اکثریت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محض کسی منصوبے پر ناراضی، اختلاف یا ناپسندیدگی کو ٹھوس قانونی نقصان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

۴۰؍ کروڑ ڈالر کا منصوبہ

وہائٹ ہاؤس کے مطابق ۲۴؍ اگست تک منصوبے کا ۶۵؍ فیصد کام مکمل ہو چکا تھا اور تقریباً ۲۵۰؍ کارکن روزانہ ۲۰؍ گھنٹے کام کر رہے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے منصوبے کی لاگت ۴۰۰؍ ملین ڈالر بتائی ہے اور کہا ہے کہ اس کی مالی اعانت نجی ذرائع سے کی جائے گی، تاہم اس دعوے پر بھی اختلاف کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسے ’’بال روم/ملٹری کمپلیکس‘‘ کے حق میں فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بجٹ سے کم لاگت میں اور مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہونے کی راہ پر ہے۔ ٹرمپ نے مجوزہ عمارت کو واشنگٹن ڈی سی میں تعمیر ہونے والی ’’اب تک کی عظیم ترین عمارتوں‘‘ میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ یہ منصوبہ موسمِ گرما ۲۰۲۸ء تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ امریکی ٹیکس دہندگان کیلئے ایک تحفہ ہے، کیونکہ اس کے اخراجات ’’عظیم محب وطن افراد اور کارپوریشنز‘‘ برداشت کر رہے ہیں اور امریکی عوام پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ظہران ممدانی کے ہم شکلوں کا مقابلہ، ۹؍ امیدواروں میں ۱۰۰؍ ڈالر کیلئے مقابلہ

چیف جسٹس کی قانونی مخالفت

گزشتہ ہفتے چیف جسٹس رابرٹس نے امریکی ضلعی عدالت کے جج کے اس حکم پر عارضی طور پر روک لگا دی تھی جس میں نیشنل ٹرسٹ کا مقدمہ زیرِ سماعت رہنے تک بال روم کی تعمیر روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس عارضی اقدام سے سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ملا کہ مقدمے کی کارروائی جاری رہنے کے دوران تعمیرات پر مزید طویل پابندی عائد کی جائے یا نہیں۔

پیر کو سپریم کورٹ کے فیصلے نے تعمیرات جاری رکھنے کی راہ ہموار کر دی۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے، جبکہ تعمیراتی کارکن ۹۰؍ ہزار مربع فٹ (۸؍ ہزار ۳۶۰؍ مربع میٹر) پر مشتمل بال روم کو مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے سے قبل مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ عمارت قومی سلامتی کیلئے ضروری ہے اور اس میں جدید ترین حفاظتی خصوصیات شامل ہوں گی، جن کا مقصد وہائٹ ہاؤس کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ اپنے اختلافی نوٹ میں چیف جسٹس رابرٹس نے کانگریس کے اختیارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قانون میں واضح طور پر وفاقی حکومت کی ملکیت والی زمین، پارک یا عوامی مقامات پر کسی عمارت یا ڈھانچے کی تعمیر کو کانگریس کی واضح اجازت سے مشروط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہائٹ ہاؤس کوئی عام عمارت نہیں ہے۔‘‘ رابرٹس کے مطابق عدالت اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے صدر کی جانب سے کانگریس کے مالیاتی اختیارات اور ضلعِ کولمبیا میں وفاقی املاک کو منظم کرنے کے قانون ساز ادارے کے اختیار کی ممکنہ خلاف ورزی کو جاری رہنے دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK