Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی گاڑیوں کےکوالیٹی چیک میں بری طرح ناکام، فورڈ نے ۳۰۰؍ تجربہ کار انجینئروں کو دوبارہ ملازمت دی

Updated: June 30, 2026, 10:08 PM IST | Washington

فورڈ نے اعتراف کیا کہ اے آئی پر مبنی کوالٹی چیکس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی، جس کے بعد کمپنی نے تجربہ کار انجینئروں کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے جو اب نہ صرف پروڈکٹ کے معیار کو براہِ راست بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے بلکہ کمپنی کے اے آئی سسٹمز کو ٹرین کرنے اور جونیئر انجینئروں کی رہنمائی (مینٹرنگ) بھی کریں گے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بلومبرگ (Bloomberg) کی ایک رپورٹ کے مطابق، فورڈ موٹر کمپنی (Ford Motor Company) نے حالیہ مہینوں میں ۳۰۰ سے زائد تجربہ کار کوالٹی انجینئرز کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے کیونکہ اس کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے کوالٹی چیکس (معیار کی جانچ) متوقع نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ اقدام امریکی آٹو موبائل کمپنی کی جانب سے اپنے تمام آپریشنز میں اے آئی کو ضم کرنے کی جارحانہ کوششوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ

وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ کے وائس پریذیڈنٹ چارلس پون نے کہا کہ ”اے آئی ایک بہترین ٹول ہے، لیکن یہ صرف اتنا ہی اچھا کام کر سکتا ہے جتنا کہ وہ ڈیٹا جس پر آپ اسے ٹرین کرتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”گزشتہ برسوں میں، ہم نے اپنے ان سب سے زیادہ باخبر انجینئرز کے تجربے پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی ہمیں دینی چاہئے تھی جو کئی پروڈکٹ سائیکلز میں ہمارے ساتھ رہے ہیں۔“

فورڈ نے اس سے قبل اے آئی کو اپنانے کے اپنے فیصلے کے بارے میں کھل کر بات کی تھی۔ کمپنی کے سی ای او جم فارلی نے گزشتہ سال جون میں کہا تھا کہ ”اے آئی بہت سے وہائٹ کالر ملازمین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔“ بعد میں اکتوبر میں کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے سرمایہ کاروں کو بتایا تھا کہ فورڈ ”پورے انڈسٹریل سسٹم میں اے آئی کو نافذ کر رہی ہے،“ اس کے تحت گاڑیوں میں کوالٹی کے مسائل کا جلد پتا لگانے اور سپلائی میں رکاوٹوں کو کم کرنے کیلئے اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹس میں اے آئی سے چلنے والے تقریباً ۹۰۰ جدید کیمروں کی تنصیب بھی شامل تھی۔

یہ بھی پڑھئے: گوگل نے میٹا کو بڑا جھٹکا دے دیا، جیمنائی اے آئی کے استعمال پر نئی پابندیاں

اے آئی پر مبنی کوالٹی چیکس معیار پر پورا نہ اتر سکے

ان اقدامات کے باوجود، پون نے اعتراف کیا کہ اے آئی پر مبنی کوالٹی چیکس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نے غلطی سے یہ سوچ لیا تھا کہ صرف اے آئی کو متعارف کروا کر اور ڈیزائن کی ضروریات کو اس میں شامل کرکے، ہم ایک اعلیٰ معیار کے پروڈکٹ تیار کر لیں گے۔“ بلومبرگ کے مطابق، پون نے وضاحت کی کہ خود کار (Automated) ٹولز کے پاس تجربہ کار انجینئرز جیسا عملی تجربہ نہیں تھا، جن میں سے بہت سے لوگ اس سے پہلے ہی کمپنی چھوڑ چکے تھے کہ ان کی مہارت کو اے آئی سسٹمز کو صحیح طریقے سے ٹرین کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا۔

تجربہ کار انجینئرز اب اے آئی سسٹمز کو ٹرین کر رہے ہیں

فورڈ نے اب ان تجربہ کار انجینئروں کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے اور اب وہ نہ صرف پروڈکٹ کے معیار کو براہِ راست بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے بلکہ کمپنی کے اے آئی سسٹمز کو ٹرین کرنے اور جونیئر انجینئروں کی رہنمائی (مینٹرنگ) بھی کریں گے۔ پون نے کہا کہ ”ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہمیں اپنے کچھ آٹومیشن، مشین لرننگ اور اے آئی ٹولز کو بہتر بنانے کیلئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ انہیں سب سے زیادہ تجربہ کار افراد کے ذریعے ٹرین کیا جائے۔“

یہ بھی پڑھئے: یوٹیوب: دنیا کے ٹاپ۵۰؍ کانٹینٹ کریئیٹرز کی آمدنی پہلی بار ایک ارب ڈالر سے تجاوز

فورڈ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی نے امریکہ کے ’جے ڈی پاور انیشل کوالٹی اسٹڈی‘ (JD Power Initial Quality Study) میں دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ ۲۰۱۰ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب وہ بڑی کار ساز کمپنیوں کی رینکنگ میں سرفہرست آئی ہے۔ فورڈ نے کہا کہ اس مقام کو حاصل کرنے کیلئے ”بڑے پیمانے پر ٹیلنٹ کی تبدیلی“ کی ضرورت تھی، جس میں انجینئرنگ، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سینئر لیڈرز کی تبدیلی بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK