ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے ٹرمپ کو مجرم قرار دیا، ساتھ ہی انہوں نے احتجاج کے دوران ہونے والی الزام تراشی، جانی اور مالی نقصان کیلئے ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 9:46 AM IST | Tehran
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے ٹرمپ کو مجرم قرار دیا، ساتھ ہی انہوں نے احتجاج کے دوران ہونے والی الزام تراشی، جانی اور مالی نقصان کیلئے ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سنیچر کو کہا کہ ایران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ’’مجرم‘‘ سمجھتا ہے اور انہیںحالیہ احتجاجی لہر کے دوران ایرانی عوام پر موت، نقصان اور الزام تراشی کا ذمہ دار سمجھتاہے، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے اس بے امنی کو منظم کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای نے کہا، ’’تازہ ترین ایران مخالف فتنہ اس لحاظ سے مختلف تھا کہ امریکی صدر ذاتی طور پر شامل ہو گئے۔‘‘خامنہ ای نے مزید کہا کہ’’ امریکہ اور ٹرمپ ذاتی طور پر ان مظاہروں کے پیچھے تھے جو ملک بھر میں پھیل گئے اور جن پر پر تشدد کریک ڈاؤن کیا گیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران میں امن، پروازیں جاری، انٹرنیٹ جزوی طور پر بحال،شرپسندوں کی پھانسی موقوف
ایران انٹرنیشنل کے مطابق خامنہ ای نے کہا، ’’ہم امریکی صدر کو ایرانی قوم پر مسلط کیے گئے جانی نقصان، مالی نقصان اور الزام تراشی کے باعث مجرم سمجھتے ہیں۔‘‘بعد ازاں انہوں نے الزام لگایا کہ امریکیوں نے ان واقعات کی منصوبہ بندی کی تھی اور ان کا مقصد ایران پر تسلط حاصل کرنا تھا۔بے امنی ایک امریکی سازش تھی، امریکہ کا مقصد ایران کو نگلنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ خود اس بے امنی میں مداخلت کرتے رہے، بیانات دیے، فسادیوں کی حوصلہ افزائی کی، اور کہا کہ ہم فوجی مدد فراہم کریں گے۔
مزید برآں خامنہ ای نے مظاہروں کو عوامی بغاوت کے طور پر پیش کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کی بھی مذمت کی اور ٹرمپ پر شرپسندوں کو ایرانی عوام کے طور پر پیش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے بے امنی پر حکام کے رد عمل کی تعریف کی اور ان لوگوں کو انتباہ جاری کیا جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس کے پس پردہ ہیں۔ خامنہ ای نے کہا،’’ایرانی قوم اس بے امنی کے پیچھے قومی اور بین الاقوامی مجرموں کو نہیں چھوڑے گی۔ ایرانی قوم، جیسا کہ اس نے فساد کی ریڑھ توڑ دی، اسی طرح ان لوگوں کی ریڑھ بھی توڑ دے گی جنہوں نے اسے اکسایا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: شام نے کرد کو سرکاری زبان کا درجہ دیا، کردوں کو قومی حقوق کی منظوری
واضح رہے کہ خامنہ ای کا لہجہ جارحانہ تھا، جبکہ ٹرمپ نے عوامی طور پر ایران کے لیڈروں کا احتجاج میں گرفتار ہونے والوں کو اجتماعی پھانسی نہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔تاہم، ایران کے اندر سخت گیر آوازیں خامنہ ای کے الزامات کی بازگشت ہیں۔ دوسری جانب سینئر علماء نے گرفتار احتجاجیوں کے لیے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے اور ٹرمپ اور اسرائیل دونوں کے خلاف دھمکیاں جاری کی ہیں۔