نومبر کی ملاقات کے بعد سے ٹرمپ اور ممدانی ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے رہے ہیں۔ ابتدائی پیغامات میں نیویارک شہر میں سستے رہائشی مکانات، زوننگ کے مسائل اور امریکی پالیسی کے معاملات پر گفتگو شامل تھی۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 6:02 PM IST | New York
نومبر کی ملاقات کے بعد سے ٹرمپ اور ممدانی ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے رہے ہیں۔ ابتدائی پیغامات میں نیویارک شہر میں سستے رہائشی مکانات، زوننگ کے مسائل اور امریکی پالیسی کے معاملات پر گفتگو شامل تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی، گزشتہ سال نومبر میں وہائٹ ہاؤس میں ہونے والی اپنی غیر متوقع ملاقات کے بعد سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کے درمیان ٹیکسٹ میسجز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ دونوں لیڈران، ممدانی کے عہدہ سنبھالنے سے قبل عوامی سطح پر ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے، اس لئے ان کے درمیان اس رابطے کو ایک حیران کن پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اوول آفس میں ملاقات اور گفتگو کے درمیان ٹرمپ اور ممدانی نے ایک دوسرے کے ساتھ فون نمبرز کا تبادلہ کیا جس کے بعد ان کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ ملاقات ان کی ماضی کی تلخ کلامی کے پیشِ نظر توقعات کے برعکس خوش گوار ثابت ہوئی تھی۔ ۲۰۲۵ء میں نیویارک شہر کے میئر کے انتخاب سے قبل، ٹرمپ نے ممدانی کو ’’کمیونسٹ‘‘ قرار دیا تھا۔ ممدانی نے ٹرمپ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں ”فاشسٹ“ کہا تھا جو ان کے درمیان گہرے نظریاتی اختلافات کی عکاسی کرتا تھا۔ سیاسی مبصرین نومبر کی اس ملاقات کے دوران دونوں لیڈران کے دوستانہ لہجے پر حیران رہ گئے تھے۔ اس دوران مبینہ طور پر ٹرمپ نے ممدانی سے یہ بھی کہا تھا کہ ’’واہ، آپ ٹی وی کے مقابلے میں اصل میں کہیں زیادہ وجیہہ (شخصیت کے حامل) ہیں۔‘‘
ان روابط سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر کی ملاقات کے بعد سے دونوں لیڈران ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ مختلف موضوعات پر ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ابتدائی پیغامات میں نیویارک شہر میں سستے رہائشی مکانات، زوننگ کے مسائل اور یہاں تک کہ امریکی پالیسی کے معاملات پر گفتگو بھی شامل تھی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ رابطے کتنے تفصیلی یا کتنی دفعہ ہوتے ہیں یا یہ کب تک جاری رہیں گے۔ وہائٹ ہاؤس اور نیویارک شہر کے میئر کے دفتر نے اس رابطے پر کوئی باضابطہ تبصرہ کیا ہے۔ کچھ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ممدانی شاید وفاقی فنڈنگ اور شہر کی اہم ترجیحات پر تعاون برقرار رکھنے کیلئے رابطے کی ان راہوں کو کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ ماضی میں ٹرمپ نے ممدانی کے نیویارک میئر منتخب ہونے کی صورت میں شہر کیلئے وفاقی امداد روکنے کی دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران احتجاج: ٹرمپ کا ایران پر حملے سے انکار، تحمل کی اپیل: ایرانی سفیر کا دعویٰ
ان پیغامات کے باوجود، ریپبلکن صدر اور سوشلسٹ میئر کے تعلقات میں تناؤ کے آثار بھی نظر آئے ہیں۔ ممدانی نے وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن، جس کے نتیجے میں سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرلیا گیا تھا، پر کھلے عام تنقید کی اور اسے ’’جنگ کا اقدام‘‘ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ممدانی کے ان تبصروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ممدانی نے اس تناؤ کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں لیڈران نے ’’اختلاف رائے کے مقامات پر ایک دوسرے کے ساتھ دیانتداری اور براہِ راست بات کی ہے۔“