• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرین لینڈ: ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ڈینش فوج کی آمد، ای یو کا امریکہ کےساتھ تجارت معطل کرنے کا مطالبہ

Updated: January 15, 2026, 8:03 PM IST | Copenhagen/Nuuk/Washington

ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کیلئے ایک نئی دلیل پیش کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی اور ان کی انتظامیہ کے ذریعے تیار کئے جارہے “گولڈن ڈوم“ میزائل ڈیفنس سسٹم کیلئے ضروری ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ڈنمارک نے گرین لینڈ میں فوجی ساز و سامان اور ملٹری دستوں کو تعینات کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے درمیان ڈنمارک نے گرین لینڈ کے دفاع کیلئے اقدامات کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ ڈینش میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ فوجی طیارے، لاجسٹک یونٹس اور فوجی ساز وسامان پہلے ہی گرین لینڈ بھیج دیئے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بڑی تعداد میں افواج کی تعیناتی ممکن ہوسکے۔ رپورٹس کے مطابق، سیکڑوں ڈینش فوجی بھی گرین لینڈ پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید فوجیوں کے آنے کی توقع ہے۔ 

ڈنمارک نے گرین لینڈ میں فوج بھیجنے کا فیصلہ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضہ کرلینے کی مسلسل دھمکیوں کے بعد کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں ہونا چاہئے تاکہ روس یا چین کو آرکٹک میں اثر و رسوخ حاصل کرنے سے روکا جاسکے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کے اندر ایک خود مختار علاقہ ہے اور شمالی امریکہ اور یورپ کے درمیان آرکٹک خطے میں واقع ہے۔ اس جزیرے پر معدنیات کے وسیع اور غیر استعمال شدہ ذخائر بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لیک دستاویز: یو اے ای کی غزہ جنگ میں اسرائیل کی معاونت کا انکشاف

ڈنمارک کے وزیرِ دفاع ٹرولس لنڈ پولسن نے جزیرے پر مستقل فوجی موجودگی کے منصوبوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک اتحادیوں کے تعاون سے آرکٹک میں اپنی موجودگی کو بڑھانا جاری رکھے گا اور علاقے میں پہلے کے مقابلے بڑے پیمانے پر کثیر الملکی مشقیں اور تربیتی سرگرمیاں منعقد کی جائے گی جن میں ڈنمارک کی افواج کے ساتھ بین الاقوامی دستوں کے بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔ 

’این ہیڈس لسٹن‘ (Enhedslisten) کے ترجمان پر کلاؤسن نے کہا کہ گرین لینڈ پر ڈینش فوج کی تعیناتی ایک واضح اشارہ ہے کہ گرین لینڈ محفوظ ہے۔ انہوں نے ڈی آر کو بتایا کہ ’’یہ کسی بھی بڑی طاقت کیلئے مناسب پیغام ہے جس کے ذہن میں گرین لینڈ پر حملہ کرنے کا برا خیال آ سکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلئے جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار

نیٹو بحران کا شکار؛ گرین لینڈ میں فوجیں بھیجنے پر رکن ممالک کا اتفاق

گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد، امریکہ کی قیادت والے گروپ نیٹو (NATO) کے ممبران کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کیلئے فوجی طاقت کے استعمال کی بھی دھمکی دی ہے جس نے یورپی اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔کئی نیٹو ممالک گرین لینڈ میں اپنی فوجیں بھیجنے کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔

ڈنمارک نے کہا ہے کہ گرین لینڈ پر کوئی بھی حملہ نیٹو کے ساتھ اس کے اتحاد کو سخت نقصان پہنچائے گا، حالانکہ وہ ’’نیٹو اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون‘‘ کے تحت جزیرے پر اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ جرمنی، ناروے، سویڈن اور فرانس اس ہفتے ڈنمارک کی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں حصہ لینے کیلئے گرین لینڈ میں فوجی بھیج رہے ہیں۔ برطانیہ بھی یورپی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد وہاں فوجی، جنگی جہاز اور طیارے تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کنیڈا اور فرانس نے گرین لینڈ کے دارالحکومت ’نوک‘ میں قونصل خانے کھولنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ نیٹو پہلے بھی آرکٹک میں مشقیں کرتا رہا ہے، لیکن موجودہ تعیناتیوں کو بیرونی خطرات کے بجائے اتحاد کے اندرونی تناؤ کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کے بل کو ابتدائی منظوری

امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ کا قیام

اس تعطل کے دوران، امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ نے تناؤ کو کم کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد ڈنمارک کی خودمختاری یا گرین لینڈ کے باشندوں کے حقِ خودارادیت پر سمجھوتہ کئے بغیر امریکی خدشات کو دور کرنا ہے۔ توقع ہے کہ یہ گروپ آئندہ ہفتوں میں ملاقات کرے گا۔

یورپی اراکینِ پارلیمنٹ کا گرین لینڈ بیانات پر امریکی تجارتی معاہدہ روکنے کا مطالبہ

گرین لینڈ کے بارے میں واشنگٹن کے موقف نے پورے یورپ کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کے ایک گروپ نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے یورپی یونین-امریکہ تجارتی معاہدے کی منظوری کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا کو لکھے گئے ایک خط میں، انہوں نے خبردار کیا کہ جب امریکہ گرین لینڈ پر خودمختاری کے بارے میں سوالات اٹھا رہا ہو، تو ایسی صورت میں معاہدے کی منظوری دینا عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو روک دیں اور واضح کریں کہ جب تک ایسی دھمکیاں برقرار ہیں، کوئی معاہدہ آگے نہیں بڑھے گا۔ گزشتہ موسمِ گرما میں فائنل کئے گئے اس تجارتی معاہدے کو فروری میں پارلیمانی ووٹنگ کیلئے پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایسی جنگ بندی بے معنی ہے جس میں بچوں کی ہلاکتیں جاری ہیں: یونیسف

گرین لینڈ امریکی میزائل ڈیفنس کیلئے ناگزیر: ٹرمپ

ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کیلئے ایک نئی دلیل پیش کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی اور ان کی انتظامیہ کے ذریعے تیار کئے جارہے ’’گولڈن ڈوم‘‘ (Golden Dome) میزائل ڈیفنس سسٹم کیلئے ضروری ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر انہوں نے لکھا کہ اس جزیرے کا امریکہ کے علاوہ کسی دوسری طاقت کے کنٹرول میں جانا ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیٹو کو اس علاقے پر امریکی کنٹرول کی حمایت کرنی چاہئے۔

ٹرمپ کا بیان واشنگٹن میں ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکہ کے سینیئر حکام کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات سے عین قبل سامنے آیا ہے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے مستقل طور پر قبضے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کیا ہے، جبکہ ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کیلئے طاقت کے استعمال پر بھی غور کررہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ : سخت سردی میں تباہ حال عمارتوں کی دیواریں منہدم

یورپی لیڈران نے کوپن ہیگن کی حمایت میں اتحاد کا اظہار کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے زور دیا کہ گرین لینڈ اس کے اپنے لوگوں کی ملکیت ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کی رکن ریاست کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK