ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں ”کرائم ایمرجنسی“ کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت میں نیشنل گارڈز کے تقریباً ۲ ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 7:02 PM IST | Washington
ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں ”کرائم ایمرجنسی“ کا اعلان کرتے ہوئے دارالحکومت میں نیشنل گارڈز کے تقریباً ۲ ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا تھا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اس ماہ کے اوائل میں ان کی انتظامیہ کے دارالحکومت میں پولیسنگ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں جرائم میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ”(واشنگٹن) ڈی سی میں کار چوری کی وارداتوں میں ۸۷ فیصد کی کمی آئی ہے۔ جب سے میں (شہر کی پولیسنگ میں) شامل ہوا ہوں، جرائم کی دیگر تمام قسموں سے جڑے واقعات میں بھی بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔“ انہوں نے زور دیا کہ امریکی دارالحکومت جلد ہی ”جرائم سے پاک علاقہ“ بن جائے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ”صرف ۱۴ دنوں میں، طے شدہ وقت سے کہیں زیادہ تیزی سے نمایاں نتائج نظر آئیں گے۔“
یہ اعداد و شمار واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر کی جانب سے پہلے جاری کردہ اعداد و شمار سے مماثلت رکھتے ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے ۲۰ دن کی مدت میں کار چوری کے واقعات میں میں ۸۷ فیصد کی ریکارڈ کمی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۰۲۳ء میں کار چوری، شہر کا ”سب سے زیادہ پریشان کن“ جرم تھا۔ باؤزر نے مجموعی جرائم میں ۱۵ فیصد کمی کی بھی اطلاع دی، جس میں ڈکیتی، قتل اور بندوق سے متعلق جرائم میں کمی اور ضبط کئے گئے غیر قانونی آتشیں اسلحے میں بھی اضافہ ہوا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں ”کرائم ایمرجنسی“ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دارالحکومت کے میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ کو وفاقی انتظامیہ کے تحت کر دیا گیا اور نیشنل گارڈز کے تقریباً ۲ ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ اس مداخلت پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ حامیوں نے اسے بہتر سیکوریٹی کا کریڈٹ دے رہے ہیں، وہیں ناقدین نے مقامی حکمرانی میں وفاقی مداخلت کے بارے میں خبردار کیا ہے۔