Updated: October 27, 2026, 10:07 PM IST
| Los Angeles
مسلم کردار کو محض دہشت گردی یا انتہا پسندی کے روایتی سانچوں میں دکھانے کے بجائے ایمان، والدین کی ذمہ داری، غم اور اخلاقی تضادات کے ساتھ پیش کرنے والی فلم ’’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘‘ کو امریکی اور بین الاقوامی فلمی حلقوں میں پذیرائی حاصل؛ ہدایتکار بسام طارق کی فلم میں مہرشالا علی ایک ایسے مسلمان باپ اور پیشہ ور قاتل کا کردار ادا کر رہے ہیں جو اپنی بیوی کی موت کے بعد تین بچوں کی پرورش اور اپنے ایمان کے تقاضوں کے درمیان راستہ تلاش کرتا ہے۔
فلم کا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این
ہالی ووڈ کی نئی فلم ’’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘‘ (Your Mother, Your Mother, Your Mother) نے ناقدین اور ناظرین دونوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ امریکی فلمی درجہ بندی کی معروف ویب سائٹ روٹن ٹماٹوز پر فلم کو ناقدین کی جانب سے ۹۶؍ فیصد اور ناظرین کی جانب سے ۹۳؍ فیصد ریٹنگ ملی ہے۔ فلم میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار مہرشالا علی نے لطیف نامی ایک مذہبی رجحان رکھنے والے مسلمان کا کردار ادا کیا ہے، جو پیشے کے اعتبار سے ایک قاتل ہے۔ بیوی کی اچانک موت کے بعد اسے اپنے تین بچوں کی پرورش کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے، جبکہ اس کا ماضی، تشدد سے جڑا پیشہ اور مذہبی عقائد اسے مسلسل اخلاقی آزمائش سے گزارتے ہیں۔ ہدایت کار اور مصنف بسام طارق نے کہانی میں اسلام، خاندانی محبت، غم اور اخلاقی ذمہ داری کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ فلم کی کامیابی اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ مسلمان کرداروں پر مبنی پیچیدہ اور سنجیدہ کہانیاں بھی مرکزی دھارے کے فلمی ناظرین تک پہنچ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پرتگال کے جزیرے کورفو میں ننھے پرندوں کی پہلی پرواز بچانے کیلئے روشنیاں بجھا دی جاتی ہیں
نبی کریمﷺ کی حدیث
اس فلم کا عنوان نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے منسوب اس معروف حدیث سے اخذ کیا گیا ہے جس میں ایک شخص نے آپؐ سے پوچھا کہ اس کے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے۔ آپؐ نے جواب دیا، ’’تمہاری ماں۔‘‘ اس شخص نے دوبارہ پوچھا تو آپؐ نے پھر فرمایا، ’’تمہاری ماں۔‘‘ تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا، جبکہ چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر فرمایا، ’’تمہارا باپ۔‘‘ فلم کے آغاز میں اس حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس سے کہانی کا بنیادی اخلاقی سوال سامنے آتا ہے: خاندان کی ذمہ داری اور محبت کا تقاضا کیا ہے، اور انسان اس وقت کیا کرے جب اس کے اپنے اعمال ان اقدار سے متصادم ہوں جن پر وہ ایمان رکھتا ہے؟ اس طرح حدیث محض عنوان تک محدود نہیں رہتی بلکہ مرکزی کردار کی زندگی، اس کے احساسِ جرم اور بچوں کے ساتھ تعلق کو سمجھنے کی کلید بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گامبیا: ملک کےپہلے نابینا مجسٹریٹ کی تنقید، تمام نظام کی تشکیل اہل بینا کے مطابق
ناقدین اور ناظرین کا ردِعمل
اسکرین انٹرنیشنل کے رابرٹ ڈینئلس لکھتے ہیں کہ ’’ایکشن ہیرو کو مسلم نقطۂ نظر سے نئے انداز میں پیش کرکے طارق نے اس صنف کو زیادہ غوروفکر اور ہمدردی پر مبنی بنا دیا ہے۔‘
دی بوسٹن گلوب کے اوڈی ہینڈرسن کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک ایسی فلم ہے جو اپنی مسلم شناخت کا کھل کر اظہار کرتی ہے اور اسلامی رسومات اور اصولوں کا احترام کرتی ہے۔‘‘
دی گارجین کے ناقد رادھیان سائمن لکھتے ہیں کہ ’’یہ فلم ان متضاد کیفیات کو سمجھنے اور قبول کرنے کی کوشش کرتی ہے جو کسی شخص کی مذہبی زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں۔‘‘
دی ریپ کے زیکر لی نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ ’’یہ فن پارہ سنجیدگی سے اس سوال کا جائزہ لیتا ہے کہ صاحبِ ایمان ہونے، دوسروں کے ساتھ رحم و درگزر کا معاملہ کرنے اور مخالف ماحول میں بہتر دنیا کے لیے کوشش کرنے کا کیا مطلب ہے۔‘‘
فلم کے مرکزی اداکار مہر شالا علی نے مسلم پبلک افیئرز کونسل کی ہالی ووڈ شاخ میں منعقدہ اسکریننگ کے دوران اس فلم کے متعلق کہا تھا کہ ’’اسلام کی جو بات مجھے بہت متاثر کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی وسعت اور اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں کتنی حقیقت پسندانہ بات کرتا ہے۔‘‘ علی نے اسی گفتگو میں کہا کہ دنیا میں خوب صورتی بھی ہے اور انتہائی بدصورت حقیقتیں بھی، اور انسان کو امن تک پہنچنے کے لیے ان مشکل حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنین: اسکول جانے کیلئے بچوں کو اسرائیلی فوجی گیٹوں کے نیچے سے رینگنا پڑ رہا ہے
فلم کے بارے میں
لطیف ایک ایسا مسلمان ہے جو اپنے مذہب سے گہرا تعلق رکھتا ہے، لیکن اس کا پیشہ اسے بار بار تشدد کے راستے پر لے جاتا ہے۔ وہ خود کو ایسے شخص کے طور پر دیکھتا ہے جو ان لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جنہیں وہ معاشرے کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔ تاہم، فلم اس کے اس تصور کو بلا سوال قبول نہیں کرتی۔ کہانی اس تضاد کو نمایاں کرتی ہے کہ کوئی شخص مذہبی اصولوں، انصاف اور نیکی کی بات کرتے ہوئے بھی اپنے اعمال کے ذریعے انہی اقدار سے دور ہوسکتا ہے۔ بیوی کی موت کے بعد لطیف کو نہ صرف اپنے تین بچوں کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے بلکہ اسے اپنے طرزِ زندگی اور اپنے ایمان کے درمیان موجود فاصلے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بیٹی فتیحہ، بیٹا قادر اور شیرخوار بیٹی عزیزہ اس کی نئی زندگی کا مرکز بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر نومولود بچی کی دیکھ بھال کے لیے دودھ کا انتظام کرنے کی کوشش کہانی میں ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا کرتی ہے، جہاں ایک خطرناک پیشہ ور قاتل کی زندگی میں باپ ہونے کی بے بسی اور نرمی نمایاں ہونے لگتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: پناہ گزین خاندان شمسی توانائی کی مدد سے پنکھا چلانے اور رات میں بچوں کو پڑھانے کے قابل
فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اسلام کو صرف عبادات یا ظاہری مذہبی علامات تک محدود نہیں رکھا گیا۔ نماز، مسجد، روزے، خاندان کے ساتھ تعلق اور مذہبی رہنمائی جیسے پہلو کرداروں کی روزمرہ زندگی میں شامل ہیں۔ لطیف کی زندگی میں امام عبد المالک کا کردار بھی اہم ہے، جو اس کے فیصلوں اور مذہبی جواز پیش کرنے کی عادت پر سوال اٹھاتا ہے۔ کہانی میں ایک مسیحی مذہبی رہنما، ہوان یون، بھی موجود ہے، جس کا کردار مذہب، تشدد اور انتہا پسندانہ عقائد کے پیچیدہ تعلق کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ اس طرح فلم کا تصادم سادہ طور پر مسلمان اور مسیحی کرداروں کے درمیان لڑائی نہیں بنتا، بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ مختلف مذہبی شناخت رکھنے والے افراد اپنے عقائد کو کس طرح سمجھتے اور ان کے نام پر اپنے اعمال کو کس طرح جائز ٹھہراتے ہیں۔ دی گارجین کے فلمی جائزے کے مطابق، فلم کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ مذہبی اختلاف کو سنسنی خیز تصادم میں بدلنے کے بجائے ایمان، رحم، معافی اور اخلاقی تضادات کو سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، سیکڑوں فلسطینی بے گھر
واضح رہے کہ فلم کے ہدایت کار بسام طارق اس سے قبل ’’موگل موگلی‘‘ کے ذریعے بھی شناخت، ثقافت اور مذہبی پس منظر سے جڑے سوالات کو فلمی کہانی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ ’’یور مدر، یور مدر، یور مدر‘‘ ان کی دوسری فیچر فلم ہے۔ اس میں مہرشالا علی کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا ہے۔ علی، جو ’’مون لائٹ‘‘ اور ’’گرین بک‘‘ جیسی فلموں میں اپنے کام کے لیے معروف ہیں، لطیف کے کردار میں ایک ایسے شخص کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ دکھاتے ہیں جو ایک طرف اپنے خاندان کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اپنے تشدد آمیز ماضی سے پوری طرح آزاد نہیں ہوپاتا۔ فلم کے جائزوں میں ان کی اداکاری، جسمانی انداز، خاموشی کے ذریعے جذبات ظاہر کرنے کی صلاحیت اور ایک پیچیدہ کردار کو انسانی پہلوؤں کے ساتھ پیش کرنے کی تعریف کی گئی ہے۔ فلم نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے دوران بھی توجہ حاصل کی، جس کے بعد اسے امریکہ میں سنیما گھروں میں ریلیز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل سے۲۰۰۰؍ فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کا اعتراف
روٹن ٹماٹوز پر ۹۶؍ فیصد ناقدین کی ریٹنگ ۱۱۹؍ جائزوں پر مبنی تھی، جبکہ ۹۳؍ فیصد ناظرین کی ریٹنگ ۵۰۰؍ سے زیادہ تصدیق شدہ درجہ بندیوں سے حاصل ہوئی۔ یہ دونوں اعداد فلم کے بارے میں مضبوط مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ناقدین کی پذیرائی کے ساتھ فلم پر بعض حلقوں میں تحفظات بھی سامنے آئے ہیں، خاص طور پر اس بات پر کہ ایک مذہبی مسلمان کو قاتل کے طور پر پیش کرنا بعض ناظرین کے لیے الجھن پیدا کرسکتا ہے۔