• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ورمونٹ کے ایک شخص کو فلسطینی طلبہ کو گولی مارنے کے جرم میں عمر قید

Updated: September 22, 2026, 5:01 PM IST | Washington

امریکی ریاست ورمونٹ کے ایک ۵۱؍ سالہ شخص سالہ جیسن ایٹن کو ۳؍ فلسطینی طلبہ کو گولی مارنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، اس حملےمیں ہشام عورتانی کمر سے نیچے تک مفلوج ہو گئے جبکہ ان کے دوست تحسین علی احمد اور کنعان عبدالحمید زخمی ہو گئے۔

Convicted of shooting three Palestinians. Image: X
۳؍ فلسطینیوں پر گولی چلانے کا مجرم۔ تصویر: ایکس

دی گارجین کی خبر کے مطابق امریکی ریاست ورمونٹ کی ایک عدالت نے۵۱؍ سالہ جیسن ایٹن کو نومبر۲۰۲۳ء میں برلنگٹن میں یونیورسٹی آف ورمونٹ کیمپس کے قریب تین فلسطینی کالج طلبہ کو گولی مارنے کے جرم میں قتل کی کوشش کا مجرم قرار دیا ہے۔ایٹن کو عمر قید تک کی سزا کا سامنا ہے۔ اس حملے میں ہشام عورتانی کمر سے نیچے تک مفلوج ہو گئے جبکہ ان کے دوست تحصین علی احمد اور کنعان عبدالحمید زخمی ہو گئے۔ عدالت نے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد کئی گھنٹوں کی غور و خوض کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں تینوں متاثرین اور دفاع اور استغاثہ دونوں کے نفسیاتی ماہرین کی گواہی شامل تھی۔ ایٹن، جس نے یہ تسلیم کرنے میں کوئی اختلاف نہیں کیا کہ اس نے گولی چلائی تھی، نے بے قصور ہونے کی درخواست دی تھی اور دلیل دی تھی کہ وہ اپنی ذہنی حالت کی وجہ سے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بچوں کے قتل پر اسرائیلی ماڈل کے بیان پر فرانسسکا البانیز کا ردعمل

بعدازاں مجرم کے وکلاء نے ایٹن کے اس دعوے کی طرف اشارہ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایف ایم ریڈیو کے ذریعے ان افراد کو گولی مارنے کے احکامات بھیجے تھے اور یہ کہ خدا نے انہیں اپنے یہودی پڑوسیوں کی حفاظت کا حکم دیا تھا۔ تاہم عدالت نے ذہنی بیماری کے دفاع کو مسترد کر دیا۔ جبکہ ایٹن کو سزا سنائے جانے تک جیل میں رکھنے کا حکم دیا گیا، جس کا ابھی تک تعین نہیں کیا گیا۔ عورتانی اور علی احمد، جو پہلی قطار میں بیٹھے تھے، مسکرائے اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کو گلے لگایا۔خاندانوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، ’’ہشام، کنعان اور تحسین کے حق میں انصاف ہو گیا ہے۔ تین سال کے غم، نقصان اور جدوجہد کے بعد، ہمارے خاندانوں کو آخر کار سکون محسوس ہو رہا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران جنگ: ٹرمپ کی ”پوری قوم کو اڑا دینے“ کی دھمکی؛ آئی آر جی سی نے وسیع تر جنگ کا انتباہ دیا

مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صدمے کو مٹا نہیں سکتا لیکن کسی بنیادی چیز کی تصدیق کرتا ہے: جیسن ایٹن اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایٹن نے مقدمے کے دوران ان کے بیٹوں کے بارے میں بار بار نفرت انگیز زبان استعمال کی، اور دلیل دی کہ ان کے اپنے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کیوں نشانہ بنے۔انہوں نے کہا، یہ نفرت پر مبنی جرم تھا۔ ہم شروع سے یہی کہتے رہے ہیں۔علاوہ ازیں خاندانوں نے برلنگٹن اور ورمونٹ میں حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی فلسطینیوں کے وسیع تر دکھ پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا، ’’جب ہمارے بچے برلنگٹن میں گولی لگنے کے زخموں سے صحت یاب ہونے کی جدوجہد کر رہے تھے، انہوں نے فلسطینی بچوں کو اپنی جانیں، اپنے گھر، اپنی زمین، اپنے خاندان کھوتے دیکھا۔ہشام، کنعان اور تحسین نے ایک نفرت انگیز فعل کا شکار بننے  کے بعد تین سال اپنے جسم اور اپنی زندگیاں دوبارہ بنانے میں گزارے۔ ہمیں بے حد راحت محسوس ہو رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK