Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی نائب صدر کی امریکی نظام میں اسرائیلی اثر و رسوخ پر سخت تنقید

Updated: July 18, 2026, 9:03 PM IST | Washington

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی نظام میں اسرائیلی اثر و رسوخ پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایپسٹین کے اسرائیل سے تعلقات کو بے نقاب کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ ان کے خیالات سے متفق ہیں۔

US Vice President JD Vance . Photo: X
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس۔ تصویر: ایکس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جو روگن کے یوٹیوب پوڈکاسٹ پر پیش ہوتے ہوئے، امریکی سیاست پر اسرائیلی اثر و رسوخ پر اب تک کی اپنی سب سے شدیدتنقیدکی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل امریکہ ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتارنے کے لیے ایک خفیہ اور مالی معاونت سے چلنے والی کارروائی کوجاری کھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوںنے جیفری ایپسٹین کے اسرائیلی سیاسی حلقوں سے پیچیدہ روابط کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ساتھ ہی نشریات کے دوران، وینس نے کہا کہ غیر ملکی حکومتیں مسلسل امریکی خارجہ پالیسی کو موڑنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل تشویش امریکی عہدیداروں کا ہے جو اس دباؤ کو اپنے فیصلوں کی تشکیل پر اثر انداز ہونے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’غیر ملکی حکومتیں مسلسل امریکہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسرائیل ایسا کرتا ہے، دوسرے ممالک کرتے ہیں، یہ اس کھیل کی فطرت ہے۔ مجھے جس چیز سے پریشانی ہے وہ امریکی ہیں - امریکی سیاست کے سرکردہ لیڈر- جو اس اثر و رسوخ کو اپنے فیصلے متاثر کرنے دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حکومت کے ارکان امریکہ کو ایران جنگ جاری رکھنے پر آمادہ کررہے: نائب صدر

علاوہ ازیں وینس نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک انتہائی خفیہ، غیر معمولی طور پر مالی معاونت یافتہ مہم موجود ہے، مزید یہ کہ اسرائیلی حکومت میں کچھ افراد سفارتی حل کی مخالفت کرتے ہیں۔بعد ازاں ایپسٹین معاملے کی طرف آتے ہوئے، وینس نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے صدر کی جانب سے کسی غلط رویے کا کوئی قابل اعتبار ثبوت نہیں دیکھا، لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی حکام نے تحقیقات کو غلط طریقے سے سنبھالا۔ انہوں نے ایپسٹین کے اسرائیل کے مرکزی-بائیں سیاسی ا سپیکٹرم کے ساتھ بہت گہرے روابط کا الزام عائد کیا۔ وینس نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فی الحال ریاستہائے متحدہ  امریکہ میں مقبولیت میں کمی کا شکار ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کیلئے ’مگرمچھوں والی جیل‘ کی تجویز پر قانونی پیش رفت

واضح رہے کہ یہ تبصرے کیپٹل ہل پر بڑھتی ہوئی دو طرفہ بے چینی کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں ۱۰۳؍ہاؤس ڈیموکریٹس نے حال ہی میں اسرائیل کو سالانہ۳؍ اعشاریہ ۳؍ بلین ڈالر کی فوجی امداد کو کم کرنے کے لیے ووٹ دیا - ایک ایسا اقدام ہے جو امریکی رائے دہندگان کے بدلتے ہوئے جذبات کو واضح کرتا ہے۔دریں اثناء پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ وینس کے جائزے سے متفق ہیں، اور انہوں نے صحافیوں کو بتایا،جی ہاں، غیر ملکی ممالک یقینی طور پر امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں - اس میں کوئی شک نہیں۔ دریں اثنا، وینس نے دہرایا کہ اگرچہ اسرائیل فرانس یا برطانیہ کی طرح ایک اہم اتحادی ہے، لیکن واشنگٹن کو اپنے قومی مفادات کو آگے بڑھانا چاہیے، خاص طور پر خلیجی بحری سلامتی اور توانائی کے راستوں کے حوالے سے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی طاقت اور سفارت کاری دونوں ہی ممکنہ اختیارات ہیں، حالانکہ کچھ عناصر طویل تنازعہ کو مذاکرات پر ترجیح دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK